LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شرجیل میمن کراچی میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت حتمی مالکان کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر 28 ہزار 761 کمپنیوں کو شوکاز نوٹس پاک چین تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے فروغ میں اہم پیشرفت آزاد کشمیر کی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا: وزیراعظم شہباز شریف ایران کا آبنائے ہرمز میں مزید بحری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ سکیورٹی کی آڑ میں مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش سرکاری سکولوں میں سبزیوں کی کاشت یقینی بنانے کی ہدایت ایران سے کشیدگی، امریکا نے مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتی بڑھا دی اقوام متحدہ کا ایران میں شادی کی تقریب پر حملے پر تشویش کا اظہار ایکسائز بلوچستان کی بڑی کارروائی، 74 ارب کی منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا این ڈی ایم اے کا آئندہ 72 گھنٹوں کے لیے ملک گیر الرٹ: بالائی علاقوں میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا خدشہ افغان سرحد کی بندش اور خلیجی تنازع سے 3 ارب ڈالر کی تجارت متاثر ہوئی: وزیر تجارت جام کمال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا گندم ذخائر کا جائزہ اجلاس: 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد کا اعادہ، صوبوں کو فوری فراہمی کی ہدایت عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا

معروف شاعر احمد راہی کو ہم سے بچھڑے 24 برس بیت گئے

Web Desk

2 September 2026

لاہور: اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر، صحافی اور بے مثال فلمی نغمہ نگار احمد راہی کی 24 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

12 نومبر 1923 کو امرتسر میں پیدا ہونے والے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شاعرانہ سفر کا آغاز کیا اور معروف شاعر سیف الدین سیف سے اصلاح لیتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، جہاں ان کے دوست ساحر لدھیانوی بھارت جانے سے قبل ادبی جریدے ’سویرا‘ کی ادارت ان کے سپرد کر گئے۔ 1953 میں شائع ہونے والا ان کا پہلا پنجابی شعری مجموعہ ’ترنجن‘ اتنا مقبول ہوا کہ اسے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔

احمد راہی نے 1948 میں سعادت حسن منٹو کے مشورے پر فلم ’بیلی‘ سے گیت نگاری کا آغاز کیا اور اپنے کیریئر میں 100 سے زائد فلموں کے لیے 300 سے زیادہ لازوال گیت تحریر کیے۔ ان کی نغمہ نگاری نے ’ہیر رانجھا‘، ’مرزا جٹ‘، ’سسی پنوں‘ اور ’یکے والی‘ جیسی تاریخی فلموں کو بے مثال کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اردو فلم ’بازار‘ کے مشہور گیت پر انہیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ پنجابی و اردو ادب اور فلمی دنیا کا یہ روشن ستارہ 2 ستمبر 2002 کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا تھا، تاہم ان کے تحریر کردہ دلفریب نغمے آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔