LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز پر ای پاسپورٹ کا اجرا شروع تائیوان میں سمندری طوفان چمپی کی تباہ کاریاں، ایک شخص ہلاک، 171 زخمی امریکی سفارتخانے کے زیرِ اہتمام پہلی ’شاہکار فنکار‘ ایلومنائی آرٹسٹ نمائش کا افتتاح، مینا ہارون کے فن پارے پیش وزیر خزانہ اور آئی ایم ایف کے وفد کی ملاقات، معاشی استحکام، اصلاحات پر تبادلہ خیال عوام کو ریلیف دلانے کیلئے جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی: لیاقت بلوچ ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کو سٹریٹجک شکستوں کا سامنا ہے: پاسداران انقلاب 23 سال بعد پاکستانی سربراہ مملکت کا دورہ جرمنی، صدر زرداری کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب پنجاب اسمبلی اجلاس 26 اکتوبر کو طلب کرنے کی تیاری، اہم بلز اور آرڈیننس پیش ہونے کا امکان وزیراعظم کا 2027 کیلئے گندم کی مجوزہ قیمت 4 ہزار 500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ اسلام آباد میں مین ہٹن طرز کا منصوبہ بنانے کا اعلان، سعودی سرمایہ کاروں کو دعوت وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی سالانہ مالی رپورٹ جاری لسبیلہ: مسافر بس اور وین میں تصادم، 11 افراد جاں بحق، متعدد زخمی لانگ مارچ کی تیاری کر رہے ہیں، اسلام آباد جائیں گے: حافظ نعیم الرحمٰن کے پی کے میں گورنر راج کا فیصلہ غلط، ملک معاشی تباہی کی طرف جا رہا ہے،علامہ ناصر عباس وفاق نے کے پی کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی یقین دہانی کرائی: فیصل کنڈی

معروف شاعر احمد راہی کو ہم سے بچھڑے 24 برس بیت گئے

Web Desk

2 September 2026

لاہور: اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر، صحافی اور بے مثال فلمی نغمہ نگار احمد راہی کی 24 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

12 نومبر 1923 کو امرتسر میں پیدا ہونے والے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شاعرانہ سفر کا آغاز کیا اور معروف شاعر سیف الدین سیف سے اصلاح لیتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، جہاں ان کے دوست ساحر لدھیانوی بھارت جانے سے قبل ادبی جریدے ’سویرا‘ کی ادارت ان کے سپرد کر گئے۔ 1953 میں شائع ہونے والا ان کا پہلا پنجابی شعری مجموعہ ’ترنجن‘ اتنا مقبول ہوا کہ اسے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔

احمد راہی نے 1948 میں سعادت حسن منٹو کے مشورے پر فلم ’بیلی‘ سے گیت نگاری کا آغاز کیا اور اپنے کیریئر میں 100 سے زائد فلموں کے لیے 300 سے زیادہ لازوال گیت تحریر کیے۔ ان کی نغمہ نگاری نے ’ہیر رانجھا‘، ’مرزا جٹ‘، ’سسی پنوں‘ اور ’یکے والی‘ جیسی تاریخی فلموں کو بے مثال کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اردو فلم ’بازار‘ کے مشہور گیت پر انہیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ پنجابی و اردو ادب اور فلمی دنیا کا یہ روشن ستارہ 2 ستمبر 2002 کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا تھا، تاہم ان کے تحریر کردہ دلفریب نغمے آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔