LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ

تیز رفتار ورزش دل اور میٹابولک صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار

Web Desk

20 August 2026

واشنگٹن: طبی ماہرین اور سائنس دانوں کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مختصر دورانیے کی زیادہ شدت والی ورزشیں (High-Intensity Sprint Exercises) دل اور میٹابولک نظام کو صحت مند رکھنے میں درمیانی شدت کی روایتی ورزشوں کی نسبت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

معروف طبی جریدے ‘سیل رپورٹس میڈیسن’ (Cell Reports Medicine) میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں محققین نے کارڈیو میٹابولک صحت (Cardiometabolic Health) پر ورزش کے اثرات کا جائزہ لیا۔ کارڈیو میٹابولک صحت سے مراد دل، خون کی شریانوں اور میٹابولزم کے اپسی تعلق کی کارکردگی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب خون کی شریانیں جسم کے تمام اعضا تک آکسیجن کی فراہمی بہتر کرتی ہیں، تو خلیوں کے مائٹوکانڈریا (Mitochondria) توانائی بنانے کے لیے ایندھن کا استعمال زیادہ مؤثر انداز میں کرتے ہیں، جس سے ہارمونز اور بلڈ شوگر کی متوازن فراہمی میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جن افراد کی کارڈیو میٹابولک صحت متاثر ہوتی ہے، ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس (Type 2 Diabetes)، گردوں کے دائمی امراض اور فیٹی لیور (جگر کی چربی) جیسے پیچیدہ مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، سگریٹ نوشی سے پرہیز، متوازن غذا، معیاری نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ روزمرہ ورزش سے اس خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے مطالعے کے دوران دیکھا کہ درمیانی شدت کی مسلسل ورزشوں (مثلاً مسلسل رفتار سے سائیکل چلانا) کے مقابلے میں مختصر وقفوں کی تیز اسپرنٹ (Sprint Interval Training) سے دل اور میٹابولزم کی کارکردگی میں تیزی سے مثبت تبدیلیاں آئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم وقت میں زیادہ شدت کے ساتھ کی جانے والی یہ ورزشیں خون کی شریانوں کو طاقتور بنانے اور میٹابولک امراض سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔