LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

تیز رفتار ورزش دل اور میٹابولک صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار

Web Desk

20 August 2026

واشنگٹن: طبی ماہرین اور سائنس دانوں کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مختصر دورانیے کی زیادہ شدت والی ورزشیں (High-Intensity Sprint Exercises) دل اور میٹابولک نظام کو صحت مند رکھنے میں درمیانی شدت کی روایتی ورزشوں کی نسبت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

معروف طبی جریدے ‘سیل رپورٹس میڈیسن’ (Cell Reports Medicine) میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں محققین نے کارڈیو میٹابولک صحت (Cardiometabolic Health) پر ورزش کے اثرات کا جائزہ لیا۔ کارڈیو میٹابولک صحت سے مراد دل، خون کی شریانوں اور میٹابولزم کے اپسی تعلق کی کارکردگی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب خون کی شریانیں جسم کے تمام اعضا تک آکسیجن کی فراہمی بہتر کرتی ہیں، تو خلیوں کے مائٹوکانڈریا (Mitochondria) توانائی بنانے کے لیے ایندھن کا استعمال زیادہ مؤثر انداز میں کرتے ہیں، جس سے ہارمونز اور بلڈ شوگر کی متوازن فراہمی میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جن افراد کی کارڈیو میٹابولک صحت متاثر ہوتی ہے، ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس (Type 2 Diabetes)، گردوں کے دائمی امراض اور فیٹی لیور (جگر کی چربی) جیسے پیچیدہ مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، سگریٹ نوشی سے پرہیز، متوازن غذا، معیاری نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ روزمرہ ورزش سے اس خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے مطالعے کے دوران دیکھا کہ درمیانی شدت کی مسلسل ورزشوں (مثلاً مسلسل رفتار سے سائیکل چلانا) کے مقابلے میں مختصر وقفوں کی تیز اسپرنٹ (Sprint Interval Training) سے دل اور میٹابولزم کی کارکردگی میں تیزی سے مثبت تبدیلیاں آئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم وقت میں زیادہ شدت کے ساتھ کی جانے والی یہ ورزشیں خون کی شریانوں کو طاقتور بنانے اور میٹابولک امراض سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔