LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ بلوچستان سے جلد دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا: صدر زرداری نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف روکنے کا اعلان ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے مطالبات رکھ دیئے ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں آج مدمقابل ہونگی دوبارہ فوجی ایکشن سے سفارتکاری کا وقت آگیا، دباؤ بڑھا کر امریکا رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا: ایران ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول اہم ترین محاذ بن گیا: میڈیا رپورٹ

سعدیہ امام کا ساتھی اداکاروں کی جانب سے دھوکا دیے جانے کا انکشاف

Web Desk

19 August 2026

پاکستان کی سینئر اداکارہ اور معروف ٹی وی ہوسٹ سعدیہ امام نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں اپنے طویل اور کامیاب کیریئر کے دوران انہیں اپنے ہی قریبی مرد ساتھیوں اور دوستوں کی جانب سے دھوکا دینے، پیٹھ پیچھے باتیں کرنے اور نظر انداز کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔

سعدیہ امام نے یہ سنسنی خیز انکشافات ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کیے۔ اپنے ماضی کے تلخ تجربات شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ جب انہوں نے انڈسٹری میں قدم رکھا تو اس وقت ان کی ہم عمر خواتین فنکاروں کی تعداد بہت کم تھی، یا تو انتہائی سینئر اداکارائیں تھیں یا پھر بالکل جونیئر۔ اس صورتحال کے باعث ڈراما سیٹ اور شوبز سرکلز میں ان کے زیادہ تر دوست اور ساتھی مرد فنکار ہی تھے۔

سعدیہ امام کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے زیادہ دکھ اور صدمہ ان لوگوں کے رویے سے پہنچا جو ان کے گھر آتے جاتے، ساتھ کھانا کھاتے اور قریبی دوست سمجھے جاتے تھے، لیکن وہی پسِ پردہ ان کے خلاف سازشیں اور باتیں کرتے تھے۔ اداکارہ نے بتایا کہ کئی مرتبہ انہوں نے اپنے مرد ساتھیوں کو خود یہ کہتے ہوئے سنا کہ “سعدیہ امام کو کاسٹ نہ کیا جائے کیونکہ وہ پارٹی گرل نہیں ہیں اور شوٹنگ کے دوران الگ تھلگ رہتی ہیں”۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس دور میں ڈراموں کی شوٹنگز کے لیے اکثر ٹیموں کو بیرونِ ملک جانا پڑتا تھا۔ بعض ڈائریکٹرز اور ساتھیوں کو ان کے سنجیدہ رویے اور طرزِ زندگی سے مسئلہ ہوتا تھا کیونکہ وہ ایسی لڑکیوں کو ترجیح دیتے تھے جو ان کے ساتھ زیادہ دوستانہ اور فري مکس ہوں۔ اسی وجہ سے انہیں کئی اہم ڈراما پروجیکٹس سے نکال دیا جاتا یا پھر مرکزی کردار کی بجائے دوسرے درجے کے روز دیے جاتے تھے۔

اداکارہ نے اپنے والد کے دانشمندانہ مشورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد ہمیشہ کہتے تھے کہ “جعلی دوست رکھنے سے بہتر ہے انسان اکیلا رہے”۔ اگرچہ اس وقت انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے ان تجربات نے انہیں بہت کچھ سکھا دیا اور اللہ کے فضل سے وہ مشکل وقت گزر گیا۔