LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا

عثمان پیرزادہ کی سوانح عمری اور بائیوپک سنسر ہونے کا خدشہ

Web Desk

19 August 2026

پاکستان کے نامور اداکار، ہدایت کار اور تھیٹر کے معروف فنکار عثمان پیرزادہ نے اپنی زیرِ تحریر سوانح عمری اور زندگی پر بننے والی ممکنہ بائیوپک کے حوالے سے اہم اور دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔

حال ہی میں ایک نجی شو میں شرکت کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر ان کی زندگی پر فلم بنائی جائے تو اس کا عنوان کیا ہوگا؟ عثمان پیرزادہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اگر ان کی بائیوپک بنی تو وہ سب سے پہلے سنسر بورڈ کی زد میں آ کر سنسر ہو جائے گی۔

اپنی سوانح عمری کی پیشرفت سے متعلق بات کرتے ہوئے سینئر اداکار نے بتایا کہ وہ اس وقت کتاب لکھنے کے مرحلے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کتاب لکھتے ہوئے وہ اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ کن واقعات کو شامل کیا جائے اور کسے حذف کیا جائے۔ تاہم، ان کا پختہ ماننا ہے کہ چونکہ یہ ایک سوانح عمری ہے، اس لیے اس میں مکمل سچ ہونا چاہیے، ورنہ سچے اور اہم واقعات نہ لکھنے کی صورت میں قارئین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

عثمان پیرزادہ کا کہنا تھا کہ آج کل کی نئی نسل (Gen Z) میں مطالعے کا رجحان کم ہو چکا ہے اور لوگ کتابوں سے دور ہو کر کمپیوٹرز اور جدید آلات میں مصروف ہو گئے ہیں، لیکن ان کے بچوں کی خواہش ہے کہ وہ اپنے مداحوں اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ کتاب ضرور مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی یہ سوانح عمری ایک طویل عرصے اور کئی اہم تاریخی واقعات پر محیط ہوگی۔ ان کے بقول، ان کے زمانے کا پاکستان آج کے پاکستان سے بالکل مختلف، انتہائی متحرک، جدید اور رنگا رنگ تھا، اسی لیے یہ کتاب نئی نسل کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی۔