LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کی آزاد کشمیر الیکشن میں برتری پر نوازشریف، کامیاب امیدواروں کو مبارکباد خلیجی ممالک ٹرمپ کی ایران پالیسی سے سخت پریشان اور مایوس ہیں: امریکی اخبار آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ بھی ن لیگ کے نام، 14 سیٹیں جیت لیں، پیپلزپارٹی 5 پر کامیاب تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے: دریائے سندھ میں 245,000 کیوسِک تک بہاؤ کا امکان، نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 2700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ سوات: کبل خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے کا مقدمہ درج ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی شام اور اردن کا عراقی سرزمین سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ چین کا صوبہ گانسو میں سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری کے تعین کیلئے تحقیقات کا اعلان

نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ

Web Desk

3 August 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نابالغ بچے کے نان و نفقے کا تعین کرتے وقت بچے کی معقول ضروریات، والد کی مالی استطاعت، آمدنی اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھا جائے گا۔ جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مسماۃ شاہین نواز کی اپیل خارج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جس کے تحت بچے کا ماہانہ نان و نفقہ 30 ہزار روپے (بشمول 15 فیصد سالانہ اضافہ) مقرر کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ والد بنگلہ دیش میں ٹیکسٹائل منیجر ہیں لہٰذا نفقہ 40 ہزار روپے کیا جائے، تاہم عدالت عظمیٰ نے نوٹ کیا کہ والد پر اپنی پہلی شادی سے ہونے والے 02 دیگر بچوں کی کفالت کا بوجھ بھی موجود ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے PLD 2026 SC 170 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں مداخلت صرف اسی صورت ممکن ہے جب فیصلہ قانون کے خلاف یا غیر معقول ہو، اور آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت مداخلت کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں।