LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی ریاست نیو جرسی کی مارلبورو ٹاؤن شپ پر مسجد کی تعمیر سے انکار پر وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے حوثی ملیشیا کے 2 میزائل، 4 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کر دیئے: ترجمان اتحادی افواج ٹرمپ کے ایرانی فوج کے مکمل تباہ ہونے کے بیان میں کوئی صداقت نہیں: مجید ابن رضا ڈیزل کی قیمتیں ایک سال تک معمول پر نہیں آسکیں گی: امریکی کمپنیوں نے خبردار کر دیا امریکا میں ہاؤسنگ قرضوں کی شرح 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر ریکارڈ اضافہ معاون پائلٹ نے طیارے کے کپتان پرحملہ کیا، سعودی اور اماراتی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ایرانی میڈیا نے اماراتی طیارے کے واقعہ کو ’’فالزفلیگ‘‘ کارروائی قرار دیدیا پوری دنیا ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور استقامت پر حیران ہے: صدر پیوٹن امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ سینٹ پیٹرزبرگ کے تاریخی بریمر ہاؤس میں خوفناک آتشزدگی، 2 ہزار مربع میٹر رقبہ متاثر سعودی وزیر دفاع کے امریکی و فرانسیسی وزرائے دفاع سے رابطے، امن کیلئے اقدامات پر زور خلیجی ممالک کی مدینہ منورہ میں حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت مشرقِ وسطیٰ کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ

4.16 کلوگرام وزنی آم نے ’کنگ آف مینگو‘ کا اعزاز جیت لیا

Web Desk

18 July 2026

جنوب مغربی چین کے صوبہ یوننان میں منعقدہ آموں کے سالانہ روایتی مقابلے میں ایک دیو ہیکل آم نے سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس سال کا ’کنگ آف مینگو‘ (آموں کا بادشاہ) کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔ اس انوکھے زرعی مقابلے میں صوبے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے اپنے باغات میں اگائے گئے بہترین، رسیلے اور غیر معمولی جسامت کے حامل آم پیش کیے، جن کا زرعی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم نے وزن، مٹھاس کے معیار اور ظاہری شکل و صورت کے لحاظ سے باریک بینی سے جائزہ لیا۔

سخت اور دلچسپ مقابلے کے بعد ایک کسان کے 4.16 کلوگرام وزنی آم کو سب سے بھاری اور منفرد قرار دیتے ہوئے مقابلے کا باضابطہ فاتح قرار دیا گیا۔ منتظمین کے مطابق اس سالانہ میلے کے انعقاد کا بنیادی مقصد علاقے میں اعلیٰ معیار کے آموں کی کاشت کو فروغ دینا، کسانوں میں جدید زرعی طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور مقامی آم کی صنعت کو عالمی سطح پر مستحکم بنانا ہے۔ اس رنگارنگ تقریب میں بڑی تعداد میں مقامی کسانوں، زرعی ماہرین اور غیر ملکی سیاحوں نے شرکت کی، جہاں شرکا نے آموں کی سینکڑوں مختلف اقسام کی نمائش دیکھی اور روایتی زرعی مصنوعات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔