انسانی پلاسنٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت کیس؛ اسلام آباد کی عدالت نےملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
Web Desk
16 July 2026
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں انسانی پلاسنٹا (اول) کی غیر قانونی خرید و فروخت کے کیس میں گرفتار ۴ ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کے روبرو سماعت کے دوران وکلاءِ صفائی اور پراسیکیوشن کے درمیان دلچسپ اور تفصیلی بحث ہوئی۔ ملزمان کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ پلاسنٹا قانوناً انسانی اعضاء میں شمار نہیں ہوتا بلکہ اس کا مثبت طبی استعمال کیا جاتا ہے، جس میں گنج پن کے شکار افراد کے سر پر بال اگوانے کے لیے پلاسنٹا کے ٹشوز کا استعمال بھی شامل ہے۔ اس پر جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ “میں نے بھی بال لگوائے ہیں، تو کیا اس میں بھی پلاسنٹا استعمال ہوا ہے؟” جس پر وکیل نے جواب دیا کہ اگر مخصوص طریقہ کار اپنایا گیا ہو تو ۱۰۰ فیصد پلاسنٹا ٹشوز ہی استعمال ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، پراسیکیوشن نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دہرایا کہ ملزمان کو جائے وقوعہ سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے ایک ہزار سے زائد انسانی پلاسنٹا برآمد ہوئے ہیں، لہٰذا میڈیکل ایکسپرٹس کی رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کی ضمانتیں مسترد کی جائیں۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج
16 July 2026
مریم نواز کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے دوران دیوار گر گئی
16 July 2026
ڈاکٹر آکاش قتل کیس؛ پولیس نے لڑکی سمیت 3 ملزمان کو مفرور قرار دے دیا
16 July 2026
پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز
16 July 2026
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان
16 July 2026
نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ
16 July 2026
کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس
16 July 2026
نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی
16 July 2026