LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست نہیں کی: ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا ایران امریکا مذاکرات کا نیا دور، امریکی نیوز ویب سائٹ کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا امریکا کیساتھ تنازع ایران کے ہتھیار ڈالنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا، باقر قالیباف پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک، 2050 تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وزیراعظم شہباز شریف کا امیر قطر سے رابطہ، حملوں کے تناظر میں عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار میرا قتل ہوا تو ایران پر غیرمعمولی بمباری کی جائے گی۔ ٹرمپ چین کا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے کا مطالبہ امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں ترکیہ نے نیتن یاہو حکومت کو بین الاقوامی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں ہورہی ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان شہر قائد میں افغانیوں کو غیر قانونی قومی شناختی کارڈ بنا کر دینے والا نیٹ ورک پکڑا گیا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ایران ظلم، دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا: باقر قالیباف پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے دو منصوبوں کو عالمی اعزازات، مریم نواز کا اظہار مسرت ایلون مسک کے دعوے نے ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی بحث چھیڑ دی

بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل، 2 ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے

Web Desk

6 December 2025

6دسمبر 1992 کو اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا تھا، حملہ کرنے والوں کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشاد اور بجرنگ دل سے تھا، انتہا پسندوں نے کلہاڑیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے بابری مسجد کو نشانہ بنایا۔بابری مسجد کی شہادت کے دوران مسلمانوں کی طرف سے شدید احتجاج اور مزاحمت کی گئی، حکومتی حمایت یافتہ فسادات کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد مسلمان شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے، بی جے پی رہنما ایل کے ایڈوانی اور منوہر جوشی نے انتہا پسند ہندوؤں کو بابری مسجد شہید کرنے کے لئے اشتعال دلایا تھا۔

2009 میں جسٹس منموہن سنگھ کی تحقیقاتی رپورٹ میں بی جے پی رہنماؤں سمیت 68 لوگوں کو موردالزام ٹھہرایا گیا۔سربراہ بھارتی انٹیلی جنس بیورو ملوئے کرشنا کے مطابق بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ بی جے پی، راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشاد نے 10 ماہ پہلے بنایا تھا۔دوسری طرف 9 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں ملوث تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایودھیا میں بابری مسجد کی بے حرمتی بین الاقوامی اصولوں کے منافی اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی، 1992 سے اب تک صرف بھارتی ریاست گجرات میں 500 مساجد شہید اور ان گنت مزارات ڈھائے جا چکے ہیں