LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست نہیں کی: ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا ایران امریکا مذاکرات کا نیا دور، امریکی نیوز ویب سائٹ کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا امریکا کیساتھ تنازع ایران کے ہتھیار ڈالنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا، باقر قالیباف پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک، 2050 تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وزیراعظم شہباز شریف کا امیر قطر سے رابطہ، حملوں کے تناظر میں عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار میرا قتل ہوا تو ایران پر غیرمعمولی بمباری کی جائے گی۔ ٹرمپ چین کا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے کا مطالبہ امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں ترکیہ نے نیتن یاہو حکومت کو بین الاقوامی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں ہورہی ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان شہر قائد میں افغانیوں کو غیر قانونی قومی شناختی کارڈ بنا کر دینے والا نیٹ ورک پکڑا گیا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ایران ظلم، دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا: باقر قالیباف پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے دو منصوبوں کو عالمی اعزازات، مریم نواز کا اظہار مسرت ایلون مسک کے دعوے نے ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی بحث چھیڑ دی

امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں

Web Desk

10 July 2026

امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے اس کے خلاف نئی اور وسیع تر اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی زرِ مبادلہ تک تہران کی رسائی کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، ان پابندیوں کا بنیادی ہدف دبئی میں مقیم معروف ایرانی کاروباری شخصیت علی انصاری ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات کے لیے ایک عالمی مالیاتی نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ علی انصاری نے مبینہ طور پر سرکاری دولت کو جرمنی، برطانیہ، اسپین، قبرص اور یو اے ای (UAE) میں جائیدادوں اور تجارتی اثاثوں میں منتقل کیا، جسے ایرانی اشرافیہ اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ان اثاثوں کا بڑا حصہ ‘آیندہ بینک’ کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا جو 2025 میں اربوں ڈالر کے قرضوں کے باعث ڈوب گیا تھا۔

 

پابندیوں کی زد میں تین ایرانی کرنسی ایکسچینج ہاؤسز (محمد دربانی، لواسانی، اور محسن خندان اینڈ پارٹنرز) اور ان سے وابستہ ہانگ کانگ اور امارات میں قائم متعدد فرنٹ کمپنیاں بھی آئی ہیں، جنہوں نے پابندیوں کا شکار ایرانی بینکوں کے لیے کروڑوں ڈالر کا انتظام کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایرانی اشرافیہ کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ بندی کے تناظر میں جاری وہ عارضی لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت ایران کو محدود پیمانے پر خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات بیچنے کی اجازت تھی۔