LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لبنانی حکومت فوج کو اسرائیلی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے: حزب اللہ انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ ٹل گیا، 20 افراد جاں بحق وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں، بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہیں: شیخ رشید امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ صدر ٹرمپ نے مذاقاً آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا: وائٹ ہاؤس ناگا عوام بھی 14 اگست کو یومِ آزادی سمجھتے ہیں: ناگا خاتون آزاد کشمیر الیکشن: باغ کے دو حلقوں کے 23 پولنگ سٹیشنوں پر ری پولنگ کا آغاز سابق فوجی افسران و جوانوں کا تجربہ و رہنمائی ادارہ جاتی اثاثہ ہے: فیلڈ مارشل لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 افراد جاں بحق یو نائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے سی ای او قتل کیس: لوئیگی مانجیونی نے امریکی فیڈرل کورٹ میں جرم قبول کر لیا نیویارک: کوئینز بورو ہال میں پاکستان کا یومِ آزادی شاندار انداز میں منایا گیا، کمیونٹی رہنماؤں کو ایوارڈز بھی دیئے گئے انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں شدید زلزلہ، شدت 7.7 ریکارڈ بھارتی یوم آزادی: مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں مزید سخت، فورسز کی بھاری نفری تعینات یمن کی موکا بندرگاہ پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ، 4 افراد جاں بحق

امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں

Web Desk

10 July 2026

امریکہ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے اس کے خلاف نئی اور وسیع تر اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی زرِ مبادلہ تک تہران کی رسائی کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، ان پابندیوں کا بنیادی ہدف دبئی میں مقیم معروف ایرانی کاروباری شخصیت علی انصاری ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات کے لیے ایک عالمی مالیاتی نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ علی انصاری نے مبینہ طور پر سرکاری دولت کو جرمنی، برطانیہ، اسپین، قبرص اور یو اے ای (UAE) میں جائیدادوں اور تجارتی اثاثوں میں منتقل کیا، جسے ایرانی اشرافیہ اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ان اثاثوں کا بڑا حصہ ‘آیندہ بینک’ کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا جو 2025 میں اربوں ڈالر کے قرضوں کے باعث ڈوب گیا تھا۔

 

پابندیوں کی زد میں تین ایرانی کرنسی ایکسچینج ہاؤسز (محمد دربانی، لواسانی، اور محسن خندان اینڈ پارٹنرز) اور ان سے وابستہ ہانگ کانگ اور امارات میں قائم متعدد فرنٹ کمپنیاں بھی آئی ہیں، جنہوں نے پابندیوں کا شکار ایرانی بینکوں کے لیے کروڑوں ڈالر کا انتظام کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایرانی اشرافیہ کی مالی شہ رگ کاٹنا ہے۔ واضح رہے کہ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ بندی کے تناظر میں جاری وہ عارضی لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے جس کے تحت ایران کو محدود پیمانے پر خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات بیچنے کی اجازت تھی۔