LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال مؤثر سفارتکاری اور امن سے پاکستان کا عالمی تشخص مضبوط ہوا: فیصل کریم کنڈی اسرائیل کو خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: صدر اردوان

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سنگین مسئلہ ہے، سعید غنی

Web Desk

5 July 2026

صوبائی وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کے زیر انتظام ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) کیسز کا سامنے آنا ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک مسئلہ ہے، جس کی مکمل تہہ تک پہنچ کر ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے انکشاف کیا کہ ولیکا اسپتال میں اب تک متاثرہ 78 بچوں کا ڈیٹا سامنے آ چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہے، اس میں یقیناً کسی نہ کسی سطح پر مجرمانہ کوتاہی برتی گئی ہے۔ اس گھناؤنے فعل کے مرتکب جو بھی افسران، ڈاکٹرز یا پیرا میڈیکل اسٹاف ہوں گے، انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متاثرہ بچوں کے اہلخانہ کو یقین دلایا کہ محکمہ محنت اور حکومتِ سندھ ان بچوں کے مکمل علاج معالجہ کی ذمہ داری اٹھائے گی اور متاثرین کو کسی موڑ پر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ ستمبر 2025 میں جب انہوں نے دوبارہ محکمہ محنت کا قلمدان سنبھالا، تو اس کے فوراً بعد اکتوبر 2025 کے آخری ہفتے میں یہ دلخراش معاملہ ان کے علم میں آیا۔ انہوں نے اسی روز ہنگامی اجلاس بلا کر حقائق معلوم کیے اور ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ 29 اکتوبر 2025 کو بننے والی پہلی کمیٹی کی سفارشات پر غفلت کے مرتکب کچھ افسران کو فوری طور پر معطل کیا گیا تھا، جس کے بعد 7 نومبر کو صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ کے پاس دائر درخواست پر ان کی ہدایات کے مطابق ایک اور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ اب تک سامنے آنے والے تمام 78 کیسز اکتوبر 2025 سے قبل کے ہیں اور چونکہ کچھ بچوں کے والدین ابھی تک کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے، اس لیے حتمی تعداد کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت اس سنگین غفلت کے پیچھے چھپے اصل کرداروں کو بے نقاب کر کے رہے گی۔