LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم امریکی صدر کی روسی ہم منصب کو یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش وعدہ کرتا ہوں شہید امام کے مشن کو جاری رکھوں گا: مسعود پزشکیان ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت 5 ماہ بعد بحال

شکست خوردہ مودی شدید دباؤ کا شکار، پراپیگنڈے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا: خواجہ آصف

Web Desk

5 July 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ جنگ میں شکست کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ان کے خلاف ذاتی حملے کرنے یا انہیں ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دینے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی اس تشہیری مہم کا مقصد نریندر مودی کو ایک عالمی مدبر رہنما کے طور پر پیش کرنا تھا، تاہم اس کے برعکس عالمی سطح پر ان کی ساکھ ایک شعبدہ باز رہنما کے طور پر ابھری ہے۔

خواجہ آصف نے برطانوی اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘دی گارڈین’ کی ایک رپورٹ میں بھی نریندر مودی کو ملنے والے اعزازات کی ساکھ اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ بیرونِ ملک سے مصنوعی تعریف و توصیف حاصل کرنے کی مودی کی کوششیں دراصل بھارت کے اندر ان کی تیزی سے کمزور ہوتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔