مصنوعی مٹھاس جگر کی مہلک بیماری کا سبب بن سکتی ہے: تحقیق
Web Desk
1 December 2025
تازہ ترین تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سوربیٹل نامی مصنوعی مٹھاس سے جگر میں خطرناک حد تک چکنائی جمع ہو سکتی ہے جو میٹابولک ڈِس فنکشن-ایسوسی ایٹڈ اسٹیئٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) کا سبب بن سکتی ہے۔
ماضی میں نان-الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز کے نام سے جانی جانے والی یہ کیفیت شراب نوشی سے تعلق نہیں رکھتی جو کہ جگر کے مسائل کا سب سے عام سبب ہے۔جرنل سائنس سگنلنگ مین شائع ہونے والی اس تحقیق میں زیبرا فش کے پیٹ کے مائیکرو بائیوم کا معائنہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اگر ان میں دراندازی ہوجائے تو ان کا جسم کیا ردِ عمل دے گا۔پیٹ کے مائیکرو بائیوم ایک قدرتی ایکو سسٹم ہوتا ہے جو اربوں مفید بیکٹیریا اور فنگئی سے بنا ہوتا ہے جو غذا کے تحلیل ہونے، ہضم ہونے اور اجزاء کے جذب ہونے میں مدد ہوتا ہے۔محققین کو معلوم ہوا کہ پیٹ کے ان مائیکرو بائیوم میں کمی جگر کی بیماری میں کردار ادا کرتی ہے، اس کے باوجود کہ مچھلی کو معمول کی غذا کھلائی گئی۔معمول کے مطابق مائیکرو بائیوم میں موجود بیکٹیریا سوربیٹول کو تحلیل کر دیتے ہیں اور نقصان سے بچاتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
تیز رفتار ورزش دل اور میٹابولک صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار
20 August 2026
جلد کے کینسر کا علاج کرنے والی دوا آخری مرحلے میں کامیاب
20 August 2026
ہر شہری کی ہیپاٹائٹس اسکریننگ ہوگی، ٹیسٹ نہ کرانے والے ملازمین کی تنخواہ روکنے کا اعلان
19 August 2026
فون سے اسکرین شاٹ محفوظ کرنا یادداشت کمزور کر سکتا ہے: تحقیق
19 August 2026
امریکا میں خطرناک ’ویسٹ نائل وائرس‘ کا پھیلاؤ
19 August 2026
بلڈ پریشر کی پرانی دوا بچوں کی خطرناک دماغی بیماری کی رفتار سست کر سکتی ہے
18 August 2026
حکیم شہزاد کی رجسٹریشن منسوخی سے متعلق طب کونسل کا فیصلہ معطل
18 August 2026
کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا ہر 30 منٹ میں ایک جان لینے لگی: ڈبلیو ایچ او
17 August 2026