LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ

سگریٹ چھوڑ کر ویپنگ اپنانا بھی آنکھوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

25 June 2026

جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک نئی اور بڑے پیمانے کی طبی تحقیق کے مطابق، جو افراد سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد نکوٹین کے متبادل اور غیر جلنے والے ذرائع (جیسے ای سگریٹ، ویپنگ یا دیگر مصنوعات) کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، ان میں بینائی کو مستقل نقصان پہنچانے والی آنکھوں کی سنگین بیماریوں کا خطرہ معمولی مگر واضح طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، سگریٹ کے ساتھ ساتھ نکوٹین کو بھی مکمل طور پر الوداع کہنے والے افراد ان بیماریوں سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

یہ اہم تحقیق جنوبی کوریا کے ‘قومی ہیلتھ انشورنس ڈیٹا’ سے حاصل کردہ مستند معلومات پر مبنی تھی، جس کے دوران سگریٹ نوشی چھوڑنے والے 32,316 سابقہ سگریٹ نوش افراد کا اوسطاً 4.6 سال تک انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا۔ تحقیق کے دائرہ کار کو واضح کرنے کے لیے تمام شرکاء کو دو بنیادی گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا: پہلے گروپ میں وہ لوگ شامل تھے جنہوں نے نکوٹین کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیا تھا، جبکہ دوسرے گروپ میں وہ افراد شامل تھے جو سگریٹ چھوڑنے کے بعد نکوٹین کی متبادل مصنوعات استعمال کر رہے تھے۔

اس طویل طبی مشاہدے (فالو اپ) کے دوران مجموعی طور پر آنکھوں کی مختلف بیماریوں کے 6,328 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 نکوٹین کو مکمل طور پر چھوڑنے والے افراد میں آنکھوں کی بیماریوں کی شرح سالوں بعد 41.1 فی 1,000 شخص رہی، جبکہ نکوٹین کے متبادل ذرائع یا ویپنگ کا سہارا لینے والوں میں یہ شرح بڑھ کر 44 فی 1,000 شخص دیکھی گئی۔ اعداد و شمار کے گہرے سائنسی تجزیے سے معلوم ہوا کہ متبادل نکوٹین مصنوعات استعمال کرنے والے افراد میں آنکھوں کی بیماریوں کا مجموعی خطرہ مکمل پرہیز کرنے والوں کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ تھا۔تحقیق میں سب سے خوفناک اور نمایاں اضافہ ‘ذیابیطس ریٹینوپیتھی’ (Diabetes Retinopathy) میں دیکھا گیا، جہاں متبادل مصنوعات کے عادی افراد میں اس خطرناک بیماری کا امکان 24 فیصد زیادہ پایا گیا۔ اس کے علاوہ ان افراد میں نظر کی فوکسنگ (Focusing) سے متعلق مسائل بھی کثرت سے رپورٹ ہوئے۔

کوریا یونیورسٹی کالج آف میڈیسن (Korea University College of Medicine) کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی یہ جدید ترین تحقیق آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق دنیا کے معتبر ترین جریدے ‘امیریکن جرنل آف اوپتھیمولوجی’ (American Journal of Ophthalmology) میں تفصیلاً شائع ہو چکی ہے، جو ویپنگ کو سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنے والے افراد کے لیے ایک بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔