LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن درست ڈیل کیلئے تیار نہیں، امریکی صدر امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان

بلڈ پریشر نارمل ہوتے ہی ازخود دوا چھوڑ دینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین کی تنبیہ

Web Desk

20 June 2026

کراچی: ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو بظاہر خاموش رہتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دل، دماغ اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اکثر مریضوں کے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ آیا بلڈ پریشر کی ادویات ساری زندگی استعمال کرنا پڑتی ہیں یا انہیں کسی مرحلے پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کا جواب ہر مریض کے لیے یکساں نہیں ہوتا، بلکہ اس کا انحصار بیماری کی شدت، مریض کی مجموعی صحت اور اس کے طرزِ زندگی (Lifestyle) پر ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات میں بڑھتی عمر، موروثی عوامل، موٹاپا، غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی شامل ہیں۔ ایسے مریضوں کے لیے ادویات نہ صرف بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہیں بلکہ دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے سنگین خطرات سے بھی بچاتی ہیں۔ تاہم، اگر مرض ابتدائی مرحلے میں ہی تشخیص ہو جائے اور مریض اپنی روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لے آئے— جیسے وزن میں کمی، باقاعدہ ورزش، نمک کا محدود استعمال، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور تمباکو نوشی سے دوری— تو بعض صورتوں میں بلڈ پریشر میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ ایسی صورتحال میں معالج مریض کی مسلسل نگرانی کے بعد دوا کی مقدار کم کرنے یا اسے مکمل بند کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے ایک عام اور انتہائی خطرناک غلط فہمی کی بھی نشاندہی کی ہے کہ بعض لوگ گھر میں بلڈ پریشر کی ریڈنگ نارمل آتے ہی خود سے دوا چھوڑ دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اکثر بلڈ پریشر اس لیے نارمل دکھا رہا ہوتا ہے کہ دوا مؤثر انداز میں اپنا کام کر رہی ہوتی ہے؛ لہٰذا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند کرنے سے بیماری اچانک دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔