LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

لاہور کے میو ہسپتال سے لاکھوں روپے کی قیمتی ادویات چوری

Web Desk

18 June 2026

صوبائی دارالحکومت لاہور کے سب سے بڑے اور معروف میو ہسپتال سے ‘وزیراعلیٰ پنجاب سٹروک پروگرام’ کے تحت فالج کے غریب مریضوں کے لیے مختص لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی اور زندگی بچانے والے انجکشنز چوری ہونے کا افسوسناک انکشاف ہوا ہے۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے ٹی پی اے (tPA – Tissue Plasminogen Activator) نامی انجکشنز غائب کیے گئے، جن کی کل مالیت 15 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔

 حکومتِ پنجاب کے اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد فالج (Stroke) کے حملے کا شکار ہونے والے غریب مریضوں کو بروقت اور بالکل مفت مہنگے ٹیکے لگانا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق، فالج کا اٹیک ہونے کے ابتدائی چند گھنٹوں کے اندر اگر یہ مخصوص ڈوز (ٹیکا) مریض کو لگ جائے تو اس کی نہ صرف جان بچائی جا سکتی ہے، بلکہ اسے عمر بھر کی جسمانی معذوری اور فالج کے مستقل اثرات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، ہسپتال کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے یہ قیمتی ٹیکے غائب کر کے غریب مریضوں کو موت اور معذوری کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ لاکھوں روپے مالیت کے ان چوری ہونے والے انجکشنز کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگا سکی کہ یہ مارکیٹ میں کس کو بیچے گئے یا کہاں منتقل کیے گئے۔

ایم ایس (Medical Superintendent) میو ہسپتال نے میڈیا کو اس چوری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انتظامیہ اس تزویراتی اسکینڈل پر خاموش نہیں بیٹھی اور سخت ترین تادیبی اقدامات شروع کر دیے ہیں

ایم ایس کے مطابق، ہسپتال کی ابتدائی اندرونی تحقیق میں یہ بات مکمل طور پر ثابت ہو گئی ہے کہ ایمرجنسی وارڈ سے انجکشنز غائب کیے گئے ہیں۔انجکشنز کی گمشدگی ثابت ہونے پر ایمرجنسی وارڈ کے 5 ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور ڈسپنسرز کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ایم ایس کا مزید کہنا تھا کہ ملوث پائے جانے والے تمام متعلقہ ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت باقاعدہ محکمانہ انکوائری کی جا رہی ہے، اور جرم میں برابر کے شریک ملازمین کو نوکریوں سے برطرفی سمیت سخت ترین تادیبی اور فوجداری سزا دلائی جائے گی۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ غریبوں کے لیے مختص ادویات چوری کرنے والے اس مافیا کے خلاف فوری جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ ہسپتالوں کے اندر ادویات کی اس تزویراتی چوری کا مستقل سدِباب ہو سکے۔