LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

لاہور کے میو ہسپتال سے لاکھوں روپے کی قیمتی ادویات چوری

Web Desk

18 June 2026

صوبائی دارالحکومت لاہور کے سب سے بڑے اور معروف میو ہسپتال سے ‘وزیراعلیٰ پنجاب سٹروک پروگرام’ کے تحت فالج کے غریب مریضوں کے لیے مختص لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی اور زندگی بچانے والے انجکشنز چوری ہونے کا افسوسناک انکشاف ہوا ہے۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے ٹی پی اے (tPA – Tissue Plasminogen Activator) نامی انجکشنز غائب کیے گئے، جن کی کل مالیت 15 لاکھ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔

 حکومتِ پنجاب کے اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد فالج (Stroke) کے حملے کا شکار ہونے والے غریب مریضوں کو بروقت اور بالکل مفت مہنگے ٹیکے لگانا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق، فالج کا اٹیک ہونے کے ابتدائی چند گھنٹوں کے اندر اگر یہ مخصوص ڈوز (ٹیکا) مریض کو لگ جائے تو اس کی نہ صرف جان بچائی جا سکتی ہے، بلکہ اسے عمر بھر کی جسمانی معذوری اور فالج کے مستقل اثرات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، ہسپتال کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے یہ قیمتی ٹیکے غائب کر کے غریب مریضوں کو موت اور معذوری کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ لاکھوں روپے مالیت کے ان چوری ہونے والے انجکشنز کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگا سکی کہ یہ مارکیٹ میں کس کو بیچے گئے یا کہاں منتقل کیے گئے۔

ایم ایس (Medical Superintendent) میو ہسپتال نے میڈیا کو اس چوری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انتظامیہ اس تزویراتی اسکینڈل پر خاموش نہیں بیٹھی اور سخت ترین تادیبی اقدامات شروع کر دیے ہیں

ایم ایس کے مطابق، ہسپتال کی ابتدائی اندرونی تحقیق میں یہ بات مکمل طور پر ثابت ہو گئی ہے کہ ایمرجنسی وارڈ سے انجکشنز غائب کیے گئے ہیں۔انجکشنز کی گمشدگی ثابت ہونے پر ایمرجنسی وارڈ کے 5 ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور ڈسپنسرز کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ایم ایس کا مزید کہنا تھا کہ ملوث پائے جانے والے تمام متعلقہ ملازمین کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت باقاعدہ محکمانہ انکوائری کی جا رہی ہے، اور جرم میں برابر کے شریک ملازمین کو نوکریوں سے برطرفی سمیت سخت ترین تادیبی اور فوجداری سزا دلائی جائے گی۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ غریبوں کے لیے مختص ادویات چوری کرنے والے اس مافیا کے خلاف فوری جوڈیشل انکوائری کرائی جائے تاکہ ہسپتالوں کے اندر ادویات کی اس تزویراتی چوری کا مستقل سدِباب ہو سکے۔