LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی پابندیاں، دباؤ پہلے بھی ناکام، آئندہ بھی ناکامی ان کا مقدر بنے گی: ایران کا ٹرمپ پر طنز روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان متحدہ اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں مشترکہ کردار ادا کرنے کا اعلان اسحاق ڈار سے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت

سائنس دانوں نے ایک اور مہلک وائرس سے خبردار کر دیا!

Web Desk

20 June 2026

برازیلیا: سائنس دانوں نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ مہلک ‘اورے پاؤچی وائرس’ (Oropouche Virus) سے متاثر ہونے والے مریضوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ عرفِ عام میں ’سلاتھ فیور‘ کہلانے والی یہ کم معروف بیماری اچانک حملہ آور ہوتی ہے، جس کے باعث مریض شدید جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے دوہرا ہو جاتا ہے۔ سن 2023ء میں برازیل اور دیگر لاطینی امریکی ممالک میں اس کے 30 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے تھے، لیکن معتبر سائنسی جریدوں ‘نیچر میڈیسن’ اور ‘نیچر ہیلتھ’ میں شائع ہونے والی دو نئی تحقیقات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ریاضیاتی ماڈلز اور بلڈ بینکوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 1960ء سے اب تک لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں تقریباً 94 لاکھ افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف برازیل میں 55 لاکھ کیسز موجود تھے۔

مطالعے کے شریک مصنف اور اسٹیٹ یونیورسٹی آف کیمپیناس کے محقق ہوز پرونکا موڈینا کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ہماری سابقہ سوچ سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے، اس لیے اس پر ہنگامی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہر ایک ہزار تشخیص شدہ مریضوں میں سے ایک کو شدید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں اعصابی بیماریاں، جگر کی خرابیاں، اسقاطِ حمل اور نومولود بچوں میں دماغ کی ساخت کا چھوٹا رہ جانا (مائیکروسیفالی) شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ خطرناک وائرس کاٹنے والے نہایت چھوٹے کیڑوں (Midgets) کے ذریعے پھیلتا ہے، جو عام مچھروں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا چھوٹے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بیماری صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا عالمی خطرہ بن چکی ہے۔