LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ

سائنس دانوں نے ایک اور مہلک وائرس سے خبردار کر دیا!

Web Desk

20 June 2026

برازیلیا: سائنس دانوں نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ مہلک ‘اورے پاؤچی وائرس’ (Oropouche Virus) سے متاثر ہونے والے مریضوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ عرفِ عام میں ’سلاتھ فیور‘ کہلانے والی یہ کم معروف بیماری اچانک حملہ آور ہوتی ہے، جس کے باعث مریض شدید جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے دوہرا ہو جاتا ہے۔ سن 2023ء میں برازیل اور دیگر لاطینی امریکی ممالک میں اس کے 30 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے تھے، لیکن معتبر سائنسی جریدوں ‘نیچر میڈیسن’ اور ‘نیچر ہیلتھ’ میں شائع ہونے والی دو نئی تحقیقات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ریاضیاتی ماڈلز اور بلڈ بینکوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 1960ء سے اب تک لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں تقریباً 94 لاکھ افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف برازیل میں 55 لاکھ کیسز موجود تھے۔

مطالعے کے شریک مصنف اور اسٹیٹ یونیورسٹی آف کیمپیناس کے محقق ہوز پرونکا موڈینا کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ہماری سابقہ سوچ سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے، اس لیے اس پر ہنگامی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہر ایک ہزار تشخیص شدہ مریضوں میں سے ایک کو شدید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں اعصابی بیماریاں، جگر کی خرابیاں، اسقاطِ حمل اور نومولود بچوں میں دماغ کی ساخت کا چھوٹا رہ جانا (مائیکروسیفالی) شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ خطرناک وائرس کاٹنے والے نہایت چھوٹے کیڑوں (Midgets) کے ذریعے پھیلتا ہے، جو عام مچھروں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا چھوٹے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بیماری صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا عالمی خطرہ بن چکی ہے۔