LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت نائیجیریا کے علاقے سوکوٹو میں کشتی حادثہ، 50 افراد ہلاک ایران کے ساتھ جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوچکی: جے ڈی وینس جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں 6.7 شدت کا زلزلہ امریکا نے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان

سائنس دانوں نے ایک اور مہلک وائرس سے خبردار کر دیا!

Web Desk

20 June 2026

برازیلیا: سائنس دانوں نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ مہلک ‘اورے پاؤچی وائرس’ (Oropouche Virus) سے متاثر ہونے والے مریضوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ عرفِ عام میں ’سلاتھ فیور‘ کہلانے والی یہ کم معروف بیماری اچانک حملہ آور ہوتی ہے، جس کے باعث مریض شدید جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے دوہرا ہو جاتا ہے۔ سن 2023ء میں برازیل اور دیگر لاطینی امریکی ممالک میں اس کے 30 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے تھے، لیکن معتبر سائنسی جریدوں ‘نیچر میڈیسن’ اور ‘نیچر ہیلتھ’ میں شائع ہونے والی دو نئی تحقیقات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ریاضیاتی ماڈلز اور بلڈ بینکوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 1960ء سے اب تک لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں تقریباً 94 لاکھ افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف برازیل میں 55 لاکھ کیسز موجود تھے۔

مطالعے کے شریک مصنف اور اسٹیٹ یونیورسٹی آف کیمپیناس کے محقق ہوز پرونکا موڈینا کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ہماری سابقہ سوچ سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے، اس لیے اس پر ہنگامی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہر ایک ہزار تشخیص شدہ مریضوں میں سے ایک کو شدید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں اعصابی بیماریاں، جگر کی خرابیاں، اسقاطِ حمل اور نومولود بچوں میں دماغ کی ساخت کا چھوٹا رہ جانا (مائیکروسیفالی) شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ خطرناک وائرس کاٹنے والے نہایت چھوٹے کیڑوں (Midgets) کے ذریعے پھیلتا ہے، جو عام مچھروں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا چھوٹے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بیماری صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا عالمی خطرہ بن چکی ہے۔