حاملہ خواتین 45 کیمیکلز کے زیر اثر رہتی ہیں، تحقیق میں انکشاف
Web Desk
18 June 2026
خواتین اور بچوں کی صحت کے حوالے سے ایک انتہائی تشویش ناک اور اہم ترین بین الاقوامی سائنسی تحقیق سامنے آئی ہے۔ اس نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ حاملہ خواتین اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی متعدد عام اشیاء کے ذریعے مسلسل ایسے خطرناک تزویراتی کیمیکلز کے زیرِ اثر رہتی ہیں جو بچوں کی قبل از وقت پیدائش (Premature Birth) اور نومولود بچوں کے وزن میں غیر معمولی کمی سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔طبی ماہرین کی جانب سے دہائیوں پر محیط اس طویل اور جامع تحقیق کے حیران کن نتائج اور ماں و بچے کی صحت پر پڑنے والے اثرات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:تحقیق کا طریقہ کار اور نمونوں کا تجزیہماہرین نے اس تحقیق کو حتمی شکل دینے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا اور نمونوں کا تزویراتی جائزہ لیا:طویل المدت مطالعہ: ماہرین نے سال 2000 سے لے کر 2021 کے درمیان بچوں کو جنم دینے والی 5000 سے زائد خواتین کو اس تحقیق کا حصہ بنایا۔نمونوں کی جانچ: ان خواتین کے پیشاب کے نمونوں کا تفصیلی لیبارٹری تجزیہ کیا گیا اور حاصل ہونے والے نتائج کا موازنہ حمل کے دوران ان خواتین کو پیش آنے والے مختلف طبی حالات اور بچوں کی صحت سے کیا گیا۔کیمیکلز کی وسیع تعداد: تحقیق کے دوران 113 مختلف کیمیکلز کی جانچ کی گئی جو عام طور پر ہماری خوراک، پینے کے پانی، فضائی آلودگی، ذاتی نگہداشت کی مصنوعات (کاسمینٹکس)، خوشبوؤں (پرفیومز) اور گھریلو استعمال کی دیگر عام اشیاء میں پائے جاتے ہیں۔تحقیق کے خوفناک اور حیران کن نتائجلیبارٹری رپورٹ اور تجزیے کے مطابق، کوئی بھی خاتون ان کیمیکلز کے اثرات سے محفوظ نہیں پائی گئی:جسم میں کیمیکلز کی اوسط: تحقیق میں دیکھا گیا کہ اوسطاً ہر حاملہ خاتون کے جسمانی نمونے میں 45 مختلف کیمیکلز موجود تھے، جبکہ بعض خواتین کے جسم میں یہ تعداد 64 تک ریکارڈ کی گئی جو کہ انتہائی خطرناک حد ہے۔پلاسٹک نرم کرنے والے مرکبات: ان زہریلے مادوں میں فیتھالیٹس (Phthalates) نامی کیمیکل بھی بھاری مقدار میں پایا گیا، جو پلاسٹک کو زیادہ نرم اور لچکدار بنانے کے لیے انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے۔خطرناک کیمیائی مرکباتاخراج کا ذریعہ / موجودگینومولود اور ماں کی صحت پر تزویراتی اثراتفیتھالیٹس اور ان کے نئے متبادلپلاسٹک کی اشیاء، خوشبوئیں، کاسمیٹکس اور روزمرہ مصنوعات۔بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور پیدائش کے وقت اوسط وزن میں شدید کمی۔پولی سائکلک ایرومیٹک ہائیڈروکاربنز (PAHs)کوئلہ، تیل، گیس اور لکڑی جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی۔آلودہ ذرات فضا کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر نومولود کے کم وزن کا باعث بنتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026
وزن کم کرنے والی ادویات کا خودکشی کے خیالات سے تعلق کا انکشاف
15 September 2026
خیبرپختونخوا: چکن گونیا کے کیسز میں اضافہ، نوشہرہ کے متعدد گاؤں متاثر
15 September 2026
ایڈز کے خاتمے کیلئے علاج کے ساتھ مؤثر آگاہی پر توجہ دینا ہو گی: مصطفیٰ کمال
14 September 2026
ہیلتھ ایشیا نمائش: شعبہ صحت میں عالمی تعاون اور جدت کا نیا سنگِ میل
14 September 2026