LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ

حاملہ خواتین 45 کیمیکلز کے زیر اثر رہتی ہیں، تحقیق میں انکشاف

Web Desk

18 June 2026

خواتین اور بچوں کی صحت کے حوالے سے ایک انتہائی تشویش ناک اور اہم ترین بین الاقوامی سائنسی تحقیق سامنے آئی ہے۔ اس نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ حاملہ خواتین اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی متعدد عام اشیاء کے ذریعے مسلسل ایسے خطرناک تزویراتی کیمیکلز کے زیرِ اثر رہتی ہیں جو بچوں کی قبل از وقت پیدائش (Premature Birth) اور نومولود بچوں کے وزن میں غیر معمولی کمی سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔طبی ماہرین کی جانب سے دہائیوں پر محیط اس طویل اور جامع تحقیق کے حیران کن نتائج اور ماں و بچے کی صحت پر پڑنے والے اثرات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:تحقیق کا طریقہ کار اور نمونوں کا تجزیہماہرین نے اس تحقیق کو حتمی شکل دینے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا اور نمونوں کا تزویراتی جائزہ لیا:طویل المدت مطالعہ: ماہرین نے سال 2000 سے لے کر 2021 کے درمیان بچوں کو جنم دینے والی 5000 سے زائد خواتین کو اس تحقیق کا حصہ بنایا۔نمونوں کی جانچ: ان خواتین کے پیشاب کے نمونوں کا تفصیلی لیبارٹری تجزیہ کیا گیا اور حاصل ہونے والے نتائج کا موازنہ حمل کے دوران ان خواتین کو پیش آنے والے مختلف طبی حالات اور بچوں کی صحت سے کیا گیا۔کیمیکلز کی وسیع تعداد: تحقیق کے دوران 113 مختلف کیمیکلز کی جانچ کی گئی جو عام طور پر ہماری خوراک، پینے کے پانی، فضائی آلودگی، ذاتی نگہداشت کی مصنوعات (کاسمینٹکس)، خوشبوؤں (پرفیومز) اور گھریلو استعمال کی دیگر عام اشیاء میں پائے جاتے ہیں۔تحقیق کے خوفناک اور حیران کن نتائجلیبارٹری رپورٹ اور تجزیے کے مطابق، کوئی بھی خاتون ان کیمیکلز کے اثرات سے محفوظ نہیں پائی گئی:جسم میں کیمیکلز کی اوسط: تحقیق میں دیکھا گیا کہ اوسطاً ہر حاملہ خاتون کے جسمانی نمونے میں 45 مختلف کیمیکلز موجود تھے، جبکہ بعض خواتین کے جسم میں یہ تعداد 64 تک ریکارڈ کی گئی جو کہ انتہائی خطرناک حد ہے۔پلاسٹک نرم کرنے والے مرکبات: ان زہریلے مادوں میں فیتھالیٹس (Phthalates) نامی کیمیکل بھی بھاری مقدار میں پایا گیا، جو پلاسٹک کو زیادہ نرم اور لچکدار بنانے کے لیے انڈسٹری میں استعمال ہوتا ہے۔خطرناک کیمیائی مرکباتاخراج کا ذریعہ / موجودگینومولود اور ماں کی صحت پر تزویراتی اثراتفیتھالیٹس اور ان کے نئے متبادلپلاسٹک کی اشیاء، خوشبوئیں، کاسمیٹکس اور روزمرہ مصنوعات۔بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور پیدائش کے وقت اوسط وزن میں شدید کمی۔پولی سائکلک ایرومیٹک ہائیڈروکاربنز (PAHs)کوئلہ، تیل، گیس اور لکڑی جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی۔آلودہ ذرات فضا کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر نومولود کے کم وزن کا باعث بنتے ہیں۔