LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

اسلام آباد: شدید بارشوں اور سیلاب سے متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ

Web Desk

17 June 2026

قومی ادارہ صحت (NIH) نے ملک بھر میں مون سون کی شدید بارشوں اور سیلاب کے پیشِ نظر صحتِ عامہ کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے ایک جامع ایڈوائزری جاری کی ہے۔ این آئی ایچ نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ موسمیاتی صورتحال فضا اور زمین پر متعدد متعدی اور وبائی امراض کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق، مون سون کی بارشیں ڈینگی، ملیریا اور ہیضے (Cholera) جیسی خطرناک وباؤں کا باعث بن سکتی ہیں۔ این آئی ایچ نے واضح کیا کہ مختلف مقامات پر کھڑا پانی ڈینگی اور ملیریا کے مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے، جبکہ پینے کے آلودہ پانی کی وجہ سے ہیضہ، گیسٹرو اور ٹائیفائیڈ پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلابی پانی کے طویل عرصے تک کھڑے رہنے سے لیپٹوسپائروسس (Leptospirosis) سمیت دیگر خطرناک جلدی اور اندرونی انفیکشنز پھیل سکتے ہیں۔

قومی ادارہ صحت نے وبائی امراض کے ساتھ ساتھ دیگر تزویراتی خطرات کی بھی نشاندہی کی ہےمون سون کے دوران کرنٹ لگنے، سانپ کے کاٹنے اور سیلابی ریلوں میں ڈوبنے کے واقعات بڑھنے کا شدید خدشہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی آسمانی بجلی گرنے، کچی دیواریں اور پرانی چھتیں منہدم ہونے کی وجہ سے جانی نقصان کا خطرہ بھی نمایاں حد تک بڑھ گیا ہے۔ این آئی ایچ نے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ملک بھر کے تمام ہسپتالوں کو سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ادویات، لائف سیونگ آکسیجن، او آر ایس (ORS) اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسین (Anti-Snake Venom) کے وافر ذخائر کی دستیابی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ مچھروں کی افزائش گاہوں کے فوری خاتمے کے لیے نکاسِ آب اور اینٹی ڈینگی اسپرے مہمات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی اور حفظانِ صحت کے عمومی انتظامات کو بہتر بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

عوامِ الناس کے لیے این آئی ایچ کی جانب سے درج ذیل اہم حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے:شہری سیلابی پانی اور گلیوں میں گرے ہوئے بجلی کے تاروں اور کھمبوں سے دور رہیں۔بچوں کو ہرگز نہروں، برساتی تالابوں اور سیلابی پانی کے قریب نہ جانے دیا جائے۔شدید بارش کے دوران کمزور دیواروں، مخدوش و پرانی عمارتوں اور درختوں کے نیچے پناہ لینے سے مکمل گریز کیا جائے۔

این آئی ایچ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ مون سون کے دوران کسی بھی علاقے میں بیماریوں کی بروقت نشاندہی اور فوری رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے، جبکہ وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قومی سطح پر نگرانی (Surveillance) کے نظام کو مزید فعال اور متحرک رکھا جائے۔