LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت نائیجیریا کے علاقے سوکوٹو میں کشتی حادثہ، 50 افراد ہلاک ایران کے ساتھ جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوچکی: جے ڈی وینس جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں 6.7 شدت کا زلزلہ امریکا نے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف

اینٹارکٹیکا کا بیکٹیریا کینسر کے علاج میں انقلاب برپا کر سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

20 June 2026

واشنگٹن: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اینٹارکٹیکا کے انتہائی سرد اور برفیلے سمندری پانیوں میں رہنے والی ایک خاص قسم کے بیکٹیریا میں مستقبل کے کینسر (خصوصاً جلد کے کینسر ‘میلینوما’) کے علاج کے اہم راز چھپے ہو سکتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ میلانوما کینسر کو ختم کرنے والا بیکٹیریا سمندری جانداروں ‘ایسیڈینز’ (Ascidians) پر نشوونما پا رہا تھا، جنہیں عام زبان میں ‘سی اسکوئرٹس’ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حیران کن دریافت دنیا کے انتہائی دور افتادہ اور دشوار گزار خطے میں کی جانے والی چھ ہفتوں پر مشتمل ایک طویل سائنسی مہم کے دوران عمل میں آئی۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں کیمسٹری کے پروفیسر بِل بیکر نے اس کامیابی کے حوالے سے بتایا کہ ہماری ٹیم نے سب سے پہلے یہ معلوم کیا کہ یہ سمندری جاندار ایک ایسے خاص بیکٹیریا کی میزبانی کرتا ہے جس میں ایک قدرتی زہریلا مرکب موجود ہے۔ یہ مرکب حیرت انگیز طور پر صرف میلینوما کینسر کے خلیات (Cells) کو ہلاک کرتا ہے، جبکہ عام اور صحت مند انسانی خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کینسر کی نئی دواؤں کی تیاری میں یہی خصوصیت سب سے زیادہ اہم اور انقلابی تصور کی جاتی ہے، کیونکہ طبی سائنس کا اصل مقصد بیماری کا خاتمہ کرنا ہے، مریض کے جسم کو نقصان پہنچانا نہیں۔