LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

407 کھرب 41 ارب روپے کے لازمی اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

Web Desk

20 June 2026

ملک پر موجود قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی حکومت کی اولین مالیاتی ترجیح ہے، جس کے تحت ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 259 کھرب 92 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی بھاری رقم مختص کی گئی ہے۔ مزید برآں، ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد، جبکہ غیر ملکی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے 58 کھرب 36 ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔ غیر ملکی قرضوں پر واجب الادا سود کی ادائیگی کے لیے 10 کھرب 71 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد، اور قلیل مدتی بیرونی قرضوں کو اتارنے کے لیے ایک کھرب 30 ارب روپے سے زائد کے فنڈز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عدالتی نظام اور آئینی اداروں کے بجٹ کی تفصیلات کے مطابق، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ‘سپریم کورٹ’ کے لیے 7 ارب 44 کروڑ روپے جاری کیے جائیں گے، وفاقی آئینی عدالت کے لیے 6 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے روزمرہ کے اخراجات کے لیے 2 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آڈٹ کے شعبے کے لیے 9 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد، وفاقی محتسب کے لیے 2 ارب 12 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد، اور وفاقی ٹیکس محتسب کے دفتری و انتظامی اخراجات کے لیے 64 کروڑ 55 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ ملک میں انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کے مدمیں 10 ارب 57 کروڑ 75 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دیگر اہم آئینی و سفارتی اخراجات کے پورٹ فولیو میں قانون ساز اداروں کا بجٹ بھی شامل ہے، جس کے تحت قومی اسمبلی کے لیے 7 ارب 96 کروڑ روپے جبکہ سینیٹ آف پاکستان کے لیے 6 ارب 42 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، الاؤنسز، کہن سالی اور پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 6 ارب 93 کروڑ روپے، مختلف گرانٹس اور متفرق اخراجات کے لیے 57 ارب روپے، بیرونِ ملک قائم فارن مشنز کے لیے 50 کروڑ روپے، اور شعبہ قانون و انصاف کے لیے 53 کروڑ 94 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ صدرِ مملکت کے پبلک آفس کے ملازمین کے الاؤنسز کی ادائیگیوں کے لیے بھی 96 کروڑ 37 لاکھ روپے کی رقم بجٹ کا حصہ بنائی گئی ہے۔