LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

اینٹارکٹیکا کا بیکٹیریا کینسر کے علاج میں انقلاب برپا کر سکتا ہے: تحقیق

Web Desk

20 June 2026

واشنگٹن: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اینٹارکٹیکا کے انتہائی سرد اور برفیلے سمندری پانیوں میں رہنے والی ایک خاص قسم کے بیکٹیریا میں مستقبل کے کینسر (خصوصاً جلد کے کینسر ‘میلینوما’) کے علاج کے اہم راز چھپے ہو سکتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ میلانوما کینسر کو ختم کرنے والا بیکٹیریا سمندری جانداروں ‘ایسیڈینز’ (Ascidians) پر نشوونما پا رہا تھا، جنہیں عام زبان میں ‘سی اسکوئرٹس’ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حیران کن دریافت دنیا کے انتہائی دور افتادہ اور دشوار گزار خطے میں کی جانے والی چھ ہفتوں پر مشتمل ایک طویل سائنسی مہم کے دوران عمل میں آئی۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں کیمسٹری کے پروفیسر بِل بیکر نے اس کامیابی کے حوالے سے بتایا کہ ہماری ٹیم نے سب سے پہلے یہ معلوم کیا کہ یہ سمندری جاندار ایک ایسے خاص بیکٹیریا کی میزبانی کرتا ہے جس میں ایک قدرتی زہریلا مرکب موجود ہے۔ یہ مرکب حیرت انگیز طور پر صرف میلینوما کینسر کے خلیات (Cells) کو ہلاک کرتا ہے، جبکہ عام اور صحت مند انسانی خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کینسر کی نئی دواؤں کی تیاری میں یہی خصوصیت سب سے زیادہ اہم اور انقلابی تصور کی جاتی ہے، کیونکہ طبی سائنس کا اصل مقصد بیماری کا خاتمہ کرنا ہے، مریض کے جسم کو نقصان پہنچانا نہیں۔