LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

بلڈ پریشر نارمل ہوتے ہی ازخود دوا چھوڑ دینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین کی تنبیہ

Web Desk

20 June 2026

کراچی: ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو بظاہر خاموش رہتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دل، دماغ اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اکثر مریضوں کے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ آیا بلڈ پریشر کی ادویات ساری زندگی استعمال کرنا پڑتی ہیں یا انہیں کسی مرحلے پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کا جواب ہر مریض کے لیے یکساں نہیں ہوتا، بلکہ اس کا انحصار بیماری کی شدت، مریض کی مجموعی صحت اور اس کے طرزِ زندگی (Lifestyle) پر ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات میں بڑھتی عمر، موروثی عوامل، موٹاپا، غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی شامل ہیں۔ ایسے مریضوں کے لیے ادویات نہ صرف بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہیں بلکہ دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے سنگین خطرات سے بھی بچاتی ہیں۔ تاہم، اگر مرض ابتدائی مرحلے میں ہی تشخیص ہو جائے اور مریض اپنی روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لے آئے— جیسے وزن میں کمی، باقاعدہ ورزش، نمک کا محدود استعمال، ذہنی دباؤ پر قابو پانا اور تمباکو نوشی سے دوری— تو بعض صورتوں میں بلڈ پریشر میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ ایسی صورتحال میں معالج مریض کی مسلسل نگرانی کے بعد دوا کی مقدار کم کرنے یا اسے مکمل بند کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے ایک عام اور انتہائی خطرناک غلط فہمی کی بھی نشاندہی کی ہے کہ بعض لوگ گھر میں بلڈ پریشر کی ریڈنگ نارمل آتے ہی خود سے دوا چھوڑ دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اکثر بلڈ پریشر اس لیے نارمل دکھا رہا ہوتا ہے کہ دوا مؤثر انداز میں اپنا کام کر رہی ہوتی ہے؛ لہٰذا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند کرنے سے بیماری اچانک دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔