LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

ریموٹ سے چلنے والا دنیا کا سب سے بڑا کاغذی طیارہ

Web Desk

1 June 2026

شینژین: چین میں اسکول کے طلبہ کی ایک ہونہار ٹیم نے جدید انجینئرنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ریموٹ کنٹرول (RC) کاغذی طیارہ فضا میں کامیابی سے اڑا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، چین کے شہر شینژین کے ’ژیلی مڈل اسکول‘ کے طلبہ کے ایک گروپ نے تقریباً چھ ماہ کی انتھک محنت اور ریسرچ کے بعد ایک مکمل طور پر فعال آر سی کاغذی طیارہ تیار کیا۔ اس تاریخی منصوبے کی قیادت گریڈ 1 (جماعتِ اول) کی کلاس 16 کے طالب علم ژو جونجیے کر رہے تھے۔

اس دیو ہیکل کاغذی طیارے کو ہوا میں متوازن رکھنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • پروں کی چوڑائی (Wingspan): اس طیارے کے پروں کی چوڑائی 6.06 میٹر ہے۔

  • طیارے کی لمبائی: اس کا باڈی سائز (جسم) 5.06 میٹر لمبا ہے۔

  • پرواز کا دورانیہ: رواں ماہ کی جانے والی اس کامیاب آزمائشی پرواز کے دوران جہاز تقریباً 15 منٹ تک فضا میں اڑتا رہا اور پھر بحفاظت زمین پر لینڈ کر گیا۔

منصوبے کے چیف ڈیزائنر اور پائلٹ ژو جونجیے کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم روایتی کاغذی جہاز کے بنیادی اصولوں کو جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر ایک مستحکم، متوازن اور غیرمعمولی بڑے سائز کا ماڈل بنانا چاہتی تھی، جس میں وہ کامیاب رہے۔

اس عالمی ریکارڈ کے پیچھے طلبہ کی پچھلی کامیابیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ژو اور ان کی ٹیم نے ’چائنا انٹرنیشنل ایئرکرافٹ ڈیزائن چیلنج‘ میں چیمپئن شپ جیت کر ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اسی کامیابی نے طلبہ کا حوصلہ بڑھایا اور انہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کی ٹھانی۔

تحقیق کے دوران ٹیم کو معلوم ہوا کہ اس وقت تک دنیا میں بغیر پائلٹ والے ریموٹ کنٹرول کاغذی طیاروں کے میدان میں کسی نے بھی 6 میٹر سائز کا سنگِ میل عبور نہیں کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا، چھ میٹر کی حد کو توڑا اور دنیا کا سب سے بڑا فعال کاغذی طیارہ بنا کر اپنا نام تاریخ میں درج کروا لیا۔