LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو

یوٹیوب میں اے آئی سرچ فیچر متعارف

Web Desk

21 May 2026

عالمی ٹیک کمپنی گوگل (Google) نے اپنی مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے ویڈیو شیئرنگ کے سب سے بڑے پلیٹ فارم یوٹیوب کے لیے ایک نیا اور جدید ترین اے آئی سرچ فیچر ’’Ask YouTube‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ اس انقلابی فیچر کی مدد سے اب صارفین کو اپنی مطلوبہ معلومات کے لیے طویل ویڈیوز دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

نئے فیچر کے تحت صارفین سرچ بار میں کسی بھی موضوع پر اپنے پیچیدہ سوالات بالکل اسی طرح تحریر کر سکیں گے جیسے کسی اے آئی چیٹ بوٹ (مثلاً جیمنائی یا چیٹ جی پی ٹی) سے گفتگو کی جاتی ہے۔ یوٹیوب کا یہ اے آئی سسٹم نہ صرف صارف کے سوال کے جواب میں متعلقہ ویڈیوز تجویز کرے گا بلکہ ان ویڈیوز کا نچوڑ (Text Summary) اور اضافی معلومات بھی تحریری شکل میں فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کو فالو اپ (مزید) سوالات پوچھنے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

اس فیچر کی سب سے نمایاں اور جادوئی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صارف کو پوری ویڈیو دیکھنے کے بجائے براہِ راست ویڈیو کے اُس مخصوص حصے (Timestamp) پر لے جائے گا جہاں اس کے سوال کا جواب موجود ہوگا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف کسی طویل ٹریول وی لاگ یا ٹیک ریویو میں کسی خاص مقام، قیمت یا مفید ٹِپ کے بارے میں جاننا چاہے، تو اے آئی اسے پوری ویڈیو دیکھنے پر مجبور کرنے کے بجائے سیدھا اسی سیکنڈ پر پہنچا دے گا جہاں وہ معلومات شیئر کی گئی ہیں۔

گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) سندر پچائی نے کمپنی کی سالانہ ڈیولپر کانفرنس (Google I/O) کے دوران اس فیچر کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’Ask YouTube‘‘ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات حاصل کرنے کے روایتی انداز کو مزید آسان، اسمارٹ اور مؤثر بنائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گوگل صارفین کو جدید ترین تجربہ فراہم کرنے کے لیے اپنی تمام تر سروسز میں مسلسل اے آئی ٹیکنالوجی کو ضم کر رہا ہے۔

حکمتِ عملی کے تحت فی الحال یہ فیچر آزمائشی بنیادوں پر صرف امریکا میں یوٹیوب پریمیئم (YouTube Premium) سبسکرپشن استعمال کرنے والے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین کے لیے لانچ کیا گیا ہے، تاہم کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ کامیاب ٹیسٹنگ کے بعد جلد ہی اسے پاکستان سمیت دیگر تمام ممالک کے عام صارفین کے لیے بھی پیش کر دیا جائے گا۔

کمپنی کے مطابق، جو صارفین اس فیچر کے اہل ہیں، انہیں اپنے اکاؤنٹ سیٹنگز میں جا کر اسے فعال (Activate) کرنا ہوگا، جس کے بعد سرچ بار میں ’’Ask YouTube‘‘ کا نیا بٹن ظاہر ہو جائے گا، جہاں پہلے سے تیار شدہ سوالات کی تجاویز بھی موجود ہوں گی۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیچر یوٹیوب سرچ کے روایتی اور پرانے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دے گا اور صارفین کا قیمتی وقت بچانے میں اہم ثابت ہوگا۔