LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید

ایک دن میں 68 فیصد صارفین کے پاس ورڈز ہیک ہو سکتے ہیں: سائبر سکیورٹی کمپنی

Web Desk

18 May 2026

سائبر سکیورٹی کمپنی نے سپرسکی کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے 68 فیصد پاس ورڈز ایک دن کے اندر ہیک کیے جا سکتے ہیں۔

کمپنی کی رپورٹ کے مطابق صارفین کی جانب سے آسان نمبرز، عام الفاظ اور مخصوص علامات کے استعمال نے سائبر حملہ آوروں کے لیے پاس ورڈ توڑنا انتہائی آسان بنا دیا ہے۔
سائبر سکیورٹی کمپنی کی جانب سے 2023 سے 2026 کے دوران لیک ہونے والے 23 کروڑ 10 لاکھ منفرد پاس ورڈز کے تجزیے میں کئی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جدید دور میں استعمال ہونے والے 68 فیصد پاس ورڈز ایک دن کے اندر توڑے جا سکتے ہیں۔
اِسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر متاثرہ پاس ورڈز یا تو کسی ہندسے سے شروع ہوتے ہیں یا پھر ہندسے پر ختم ہوتے ہیں، جو صارفین کی ایک عام عادت ہے اور یہی بات انہیں ’بروٹ فورس‘ حملوں کے لیے آسان ہدف بنا دیتی ہے۔
دوسری جانب حالیہ برسوں میں محفوظ پاس ورڈز کے اصولوں پر کافی بحث ہوئی اور متعدد آن لائن سروسز اب کم از کم 10 حروف، ایک بڑا حرف اور کوئی نمبر یا علامت شامل کرنے کی شرط عائد کرتی ہیں، تاہم صرف ان اصولوں پر عمل کرنا بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ صرف ایک علامت استعمال کرنے والے پاس ورڈز میں ’@‘ سب سے زیادہ عام تھا، جو 10 فیصد کیسز میں دیکھا گیا، جبکہ ’.‘ 3 فیصد پاس ورڈز میں شامل تھا۔ اسی طرح 53 فیصد پاس ورڈز اعداد پر ختم ہوتے ہیں، 17 فیصد اعداد سے شروع ہوتے ہیں اور تقریباً 12 فیصد میں تاریخ جیسی عددی ترتیب شامل ہوتی ہے۔
ماہرِ ڈیٹا سائنس الیکسی انتونوف کا کہنا تھا کہ عام علامات، نمبرز یا تاریخوں کا استعمال، خاص طور پر پاس ورڈ کے آغاز یا اختتام پر، سائبر مجرموں کے لیے پاس ورڈ ہیک کرنا انتہائی آسان بنا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بروٹ فورس حملوں میں کمپیوٹر مسلسل مختلف حروف اور نمبرز آزما کر درست پاس ورڈ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب حملہ آوروں کو صارفین کی عام عادات کا اندازہ ہو تو پاس ورڈ توڑنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 8 حروف تک کے مختصر پاس ورڈز عام طور پر ایک دن سے بھی کم وقت میں ہیک کیے جا سکتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید الگورتھمز کی وجہ سے 15 حروف پر مشتمل 20 فیصد سے زائد پاس ورڈز بھی ایک منٹ سے کم وقت میں توڑے جا سکتے ہیں۔