دنیا کا انوکھا شہر جہاں مرنا منع ہے، قانون توڑنے والے کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
Web Desk
12 May 2026
دنیا میں کئی عجیب و غریب قوانین پائے جاتے ہیں، لیکن ناروے کے دور افتادہ جزیرے ‘سوالبارڈ’ (Svalbard) کے شہر لانگیئر بائین (Longyearbyen) کا قانون سب سے منفرد ہے۔ یہاں 1950 سے ایک ایسا قانون نافذ ہے جس کے تحت شہر کی حدود میں مرنے یا دفن ہونے پر پابندی ہے۔
سائنسی وجہ: پرما فراسٹ (Permafrost) اس انوکھے قانون کے پیچھے کوئی مذہبی یا روایتی وجہ نہیں بلکہ خالص سائنسی حقیقت ہے۔ اس خطے کی زمین ‘پرما فراسٹ’ ہے، یعنی یہاں کی مٹی مستقل طور پر جمی رہتی ہے۔
-
تجزیہ: ماہرین نے دہائیوں قبل یہ دریافت کیا کہ شدید سردی کی وجہ سے یہاں انسانی لاشیں قدرتی طور پر گلتی سڑتی نہیں ہیں بلکہ منجمد ہو کر محفوظ ہو جاتی ہیں۔
-
حیاتیاتی خطرہ: لاشوں کے نہ گلنے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں موجود قدیم وائرس اور مہلک بیماریاں (جیسے کہ 1918 کا ہسپانوی فلو) دہائیوں بعد بھی زندہ رہ سکتی ہیں، جو پگھلنے کی صورت میں پورے شہر کے لیے وبائی خطرہ بن سکتے ہیں۔
آخری وقت کی ہجرت: اس قانون کی وجہ سے یہاں کا نظامِ زندگی کچھ یوں ہے:
-
منتقلی: اگر کوئی شہری شدید بیمار ہو جائے یا بڑھاپے کے باعث اس کی موت کا امکان ہو، تو اسے فوری طور پر ہوائی جہاز کے ذریعے ناروے کے دیگر شہروں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
-
حادثاتی موت: اگر کسی کی اچانک یا حادثاتی موت واقع ہو جائے، تب بھی لاش کو یہاں کے قدیم قبرستان میں دفن کرنے کے بجائے جزیرے سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔
تقریباً 2500 کی آبادی والے اس شہر میں لوگ اس حقیقت کے ساتھ جیتے ہیں کہ وہ یہاں رہ تو سکتے ہیں، لیکن اپنی ابدی نیند کے لیے انہیں اس جمی ہوئی زمین کو چھوڑنا ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
لڑکی نے 60 روز تک سو کر 28 لاکھ روپے سے زائد کمالیے
8 November 2026
شارجہ بک فیئر میں جرمن فنکار کا چلتا پھرتا درخت بچوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
7 November 2026
خاتون کاروباری شخصیت کا ملازماؤں کو مہنگے فولڈ ایبل آئی فونز کا تحفہ
7 November 2026
بھارت: 50 سالہ شخص دانت صاف کرتے ہوئے برش ہی نگل گیا
6 November 2026
اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹرمینل میں بندر گھس آیا: مسافروں میں حیرت
6 November 2026
10 سال سے زائد کی محنت، امریکی شہری نے دنیا کی سب سے بڑی ربڑ بینڈ بال بنا ڈالی
4 November 2026
90 سالہ جاپانی باڈی بلڈر کی فٹنس نے دنیا کو حیران کردیا
4 November 2026
مرغیاں کھا کھا کر باز موٹی، ماہرین نے ڈائٹ شروع کروا دی
4 November 2026