LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دشمن کی نئی غلطی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ایرانی آرمی چیف سعودی عرب اور یمن کو باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں: روبیو امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 6 اور 7 اکتوبر کو بارش کی پیشگوئی، الرٹ جاری پاکستان پولینڈ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنے کے خواہاں ہیں: وزیراعظم بانی پی ٹی آئی سے پاکستان کی خاطر بات چیت کرنی چاہیے: علامہ ناصر عباس ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان بھی بحفاظت بازیاب تبدیلی گالیاں دینے سے نہیں، کچھ کر دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال جیٹ فیول کی قیمت میں 3 روز کے دوران 9 روپے سے زائد اضافہ افغانستان پر ماسکو فارمیٹ اجلاس، پاکستان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت

سندھ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر شرجیل میمن برس پڑے

Web Desk

12 September 2026

سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سندھ میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے-الیکٹرک اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) پر شدید برس پڑے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کے-الیکٹرک، حیسکو (HESCO) اور سیپکو (SEPCO) عوامی مسائل کے حل میں مکمل ناکام ہو چکی ہیں، اور شدید گرمی و حبس کے موسم میں 18، 18 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کے ذریعے عوام کی زندگی عذاب بنا دی گئی ہے۔

شرجیل میمن نے مرکزی حکومت اور پاور کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے کو اس کے حصے کی گیس اور پانی بھی پورا نہیں دیا جا رہا، جو بدترین گورننس کی مثال ہے۔ اس پر سپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ نے وزیرِ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ 23 ستمبر کو تمام ڈسکوز کے سربراہان کو طلب کر کے اہم اجلاس منعقد کریں۔ واضح رہے کہ اجلاس کے دوران سندھ اسمبلی نے صوبے میں رینجرز کی تعیناتی اور ان کے اختیارات میں مزید ایک سال کی توسیع کی قرارداد کے ساتھ ساتھ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی۔