LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

میؤ ہسپتال لاہور میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ

Web Desk

16 April 2026

لاہور: میؤ ہسپتال لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) ڈاکٹر عبدالمدبر نے شہر میں منکی پاکس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال اب تک اس بیماری کے 32 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمدبر کے مطابق، اس وقت میؤ ہسپتال میں 6 مریض زیرِ علاج ہیں، جبکہ لاہور اور اس کے گرد و نواح سے بھی نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ متاثرہ مریضوں میں سے کسی نے بھی حال ہی میں بیرونِ ملک سفر نہیں کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس اب مقامی سطح پر پھیل رہا ہے۔

ایم ایس میؤ ہسپتال نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ منکی پاکس ہر عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کسی شخص کو تیز بخار، جسم پر سرخ دھبے یا خارش جیسی علامات محسوس ہوں، تو وہ اسے عام الرجی نہ سمجھیں بلکہ فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔ اگرچہ منکی پاکس کی کوئی مخصوص دوا یا ویکسین عام دستیاب نہیں، تاہم طبی نگہداشت کے ذریعے زیادہ تر مریض 14 دن کے اندر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔