LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

سندھ: بچوں میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ جاری، 329 بچے وائرس سے متاثر

Web Desk

15 April 2026

اسلام آباد: صوبہ سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) کے پھیلاؤ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی ہے، جہاں رواں سال 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران مجموعی طور پر 329 بچے اس مہلک وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متاثرہ بچوں میں 188 لڑکے اور 141 لڑکیاں شامل ہیں۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 3 سے 4 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو رہی ہے، جو کہ ایک سنگین انسانی بحران کی نشاندہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سال 2026 کے آغاز سے ہی کیسز میں تسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ جنوری میں 294، فروری میں 324 اور مارچ میں 276 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد صوبے میں ایچ آئی وی کے مجموعی کیسز کی تعداد 894 تک جا پہنچی ہے۔ ان اعداد و شمار نے صحت کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے، اور ماہرین اس پھیلاؤ کی وجوہات میں غیر محفوظ طبی طریقے، سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور خون کی منتقلی کے دوران اسکریننگ کی کمی کو قرار دے رہے ہیں۔محکمہ صحت سندھ اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندوں نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی شعور کی بیداری اور طبی مراکز میں جراثیم کش آلات کے استعمال کو یقینی بنا کر ہی اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے خصوصی مراکز قائم کرنے اور مفت ادویات کی فراہمی کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں، لیکن زمین سطح پر کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح حکومتی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے۔