LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی کوہاٹ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، حکومت اورعوام سے تعزیت کا اظہار حوثی ملیشیا بحیرۂ احمر میں اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے: پاکستان آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا: برطانیہ میری ٹائم کی تصدیق دشمن ملک سے خطرات: ایران نے 3 لاکھ 13 ہزار جانثار متحرک کر دیئے امریکا کا گرین لینڈ پر مستقل سکیورٹی کنٹرول، معاہدہ طے پا گیا: ٹرمپ کا دعویٰ جنوبی کوریا کا امریکا اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوج بھیجنے سے انکار نمازیوں کو مقدس مقام پر نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے: حنیف عباسی دہشتگردی کے بزدلانہ واقعات قوم کے عزم، حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے: اویس لغاری سال کے اختتام تک 3 لاکھ افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، کریملن ٹرمپ نے 3 بڑے میڈیا اداروں پر وائٹ ہاؤس میں کوریج پر پابندی لگا دی روسی ہتھیار دنیا کے قابل اعتماد اور مؤثر ترین ہتھیاروں میں شامل ہیں، صدر پوتن ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ مالی و عسکری لحاظ سے نقصان اٹھا رہا ہے، ٹرمپ ایشین گیمز کی افتتاحی تقریب اور ایونٹ کا باقاعدہ آغاز آج سے ہوگا آرمینیا کو یورپی یونین کی رکنیت ملنا مشکل ہے، روسی وزیر خارجہ سعودی سول ڈیفنس نے مختلف شہروں میں خطرے کا الرٹ جاری کر دیا

سمندری غذاؤں میں موجود وائرس کس خطرناک بیماری کا سبب بن سکتا ہے؟

Web Desk

11 April 2026

طبی تحقیق کی دنیا میں ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق جھینگوں اور دیگر آبی حیات کو متاثر کرنے والا ایک وائرس اب انسانوں میں آنکھوں کی نئی اور خطرناک بیماری کا سبب بن رہا ہے۔ چینی سائنس دانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق، کوورٹ مورٹیلٹی نوڈا وائرس (CMNV) انسانوں میں ایک خاص قسم کی بیماری ’پرسسٹنٹ آکیولر ہائپرٹینشن وائرل اینٹیریئر یووائٹس‘ (POH-VAU) پیدا کر رہا ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل نابینا پن کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے اس مخصوص بیماری میں مبتلا مریضوں کی آنکھوں کے ٹشوز کا معائنہ کیا، جس میں مذکورہ وائرس کے واضح شواہد پائے گئے۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ متاثرہ افراد کی اکثریت نے حال ہی میں کچی سمندری خوراک (Raw Seafood) کے استعمال یا آبی جانوروں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی تصدیق کی ہے۔ یہ وائرس پہلے صرف سمندری غذاؤں تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اس کی انسانوں میں منتقلی نے ماہرینِ صحت کو چونکا دیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، اگر CMNV اور انسانی آنکھوں کی بیماری کے درمیان یہ تعلق مکمل طور پر ثابت ہو جاتا ہے، تو یہ دنیا کا پہلا ایسا وائرس ہوگا جو آبی حیات سے انسانوں میں منتقل ہو کر آنکھوں کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس مستقبل میں صحت کے ایک بڑے عالمی مسئلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، اس لیے سمندری غذا کے استعمال میں احتیاط اور اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید تحقیق کی فوری ضرورت ہے۔