LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف

پولیو کیخلاف دوسری قومی مہم 13 اپریل سے شروع ہو گی

Web Desk

8 April 2026

پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے اور نئی نسل کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے حکومت نے 13 اپریل سے دوسری ملک گیر قومی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی قیادت میں چلنے والی اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 4 لاکھ سے زائد جفاکش فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے، جو گھر گھر جا کر بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں گے۔

یہ مہم چاروں صوبوں—سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا—سمیت گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی بیک وقت چلائی جائے گی۔ حکام کے مطابق، پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ ملک کو اس مہلک وائرس سے پاک کیا جا سکے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے روشن اور صحتمند مستقبل کے لیے پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں، کیونکہ صرف مستقل ویکسینیشن ہی بچوں کو اس معذوری سے محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔