غیر قانونی فارماسٹس اور دوائیوں کی غلط فراہمی: عوام کی صحت کے لیے خطرہ
Web Desk
26 March 2026
کراچی/حیدرآباد: کراچی سمیت اندرونِ سندھ میں غیر رجسٹرڈ فارمیسیز اور بغیر لائسنس کے کام کرنے والے غیر قانونی فارماسسٹس نے عوامی صحت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، صوبے کے بیشتر میڈیکل اسٹورز پر ماہر فارماسسٹ کی ڈگری تو محض دکھاوے کے لیے آویزاں ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں وہاں کوئی تربیت یافتہ پیشہ ور موجود نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال صحت کے شعبے میں مجرمانہ لاپرواہی کی عکاسی کر رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2024 کے اختتام تک ملک بھر کی تقریباً 90 فیصد فارمیسیز میں مستند فارماسسٹ موجود نہیں تھے۔ مجموعی طور پر 80 ہزار سے زائد نیٹ ورک شدہ فارمیسیز میں سے صرف 55 ہزار پر ہی تعلیم یافتہ اور لائسنس یافتہ پیشہ ور دستیاب ہیں۔ کم تجربہ کار افراد کی جانب سے مریضوں کو متبادل ادویات (Substitutes) تجویز کرنا اور اینٹی بایوٹکس کا بے دریغ استعمال، ادویات کے خلاف انسانی مدافعت (Antimicrobial Resistance) میں خطرناک اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
ماہرینِ صحت نے اس بحران کی بڑی وجہ ضلعی ہیلتھ آفیسرز (DHO) کے دفاتر میں مبینہ کرپشن اور ڈرگ لائسنس کے غیر شفاف اجراء کو قرار دیا ہے۔ غیر قانونی فارمیسیز کی بھرمار اور خود ساختہ ڈاکٹروں (Quacks) کے مشوروں نے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ادویات کے لائسنسنگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور ڈرگ انسپکٹرز کے نظام میں شفافیت لائی جائے تاکہ اس جان لیوا کاروبار کا خاتمہ ہو سکے۔
متعلقہ عنوانات
پروٹین کی کم مقدار طویل عمر میں مددگار ہو سکتی ہے: تحقیق
3 August 2026
کراچی: جناح اسپتال میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے جدید سینٹر کا افتتاح
3 August 2026
جگر 80 فیصد تک متاثر ہونے پر بھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، ماہرین نے خبردار کردیا
3 August 2026
خیبر پختونخوا: 1ہفتے میں ڈینگی کے 35 کیسز رپورٹ
3 August 2026
دانتوں میں کیڑا روکنے کا آسان علاج دریافت
1 August 2026
ایف آئی اے کی بڑی کارروائی؛ غیر قانونی فارماسیوٹیکل فیکٹری سیل، جعلی ادویہ برآمد
1 August 2026
ہسپتال بنانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے، وفاق اپنی ڈسپنسریاں اپ گریڈ کر سکتا ہے: مصطفیٰ کمال
1 August 2026
پولٹری فارمنگ انسانی صحت کیلئے مضر؟ نئی تحقیق
31 July 2026