LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

9 سال، 139 ناکام کوششیں، نوجوان نے بالآخر ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کر لیا

Web Desk

26 March 2026

لینڈ کے شہر تارنو سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ثابت قدمی کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس مقامی شخص نے مسلسل 9 سال کی محنت اور 139 کوششوں کے بعد بالآخر اپنا ڈرائیونگ تھیوری ٹیسٹ پاس کر لیا ہے۔ یہ نوجوان 2017 سے اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جہاں عام طور پر امیدوار 1 سے 3 کوششوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

مالوپولسکا روڈ ٹریفک سینٹر کے مطابق، اس امیدوار نے ان برسوں کے دوران امتحانی فیسوں کی مد میں تقریباً 1800 یورو (2100 ڈالر) خرچ کیے۔ سینٹر کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ ناکامیوں کے باوجود نوجوان نے ہمت نہیں ہاری، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا اس کے لیے کتنا اہم ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ ابتدائی ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ امیدوار تیاری کے لیے صرف ‘ڈیمو ورژن’ استعمال کر رہا تھا جس میں تمام ممکنہ سوالات شامل نہیں تھے۔ مکمل تربیتی پروگرام کے استعمال کے بعد اس کی کارکردگی میں بہتری آئی اور وہ کامیاب ہوا۔ اب اس شخص کو عملی ڈرائیونگ ٹیسٹ (Practical Test) کا مرحلہ طے کرنا ہے، تاہم اگر وہ اس میں ناکام رہا تو اسے دوبارہ تھیوری ٹیسٹ دینا ہوگا۔ واضح رہے کہ پولینڈ میں طویل ترین جدوجہد کا ریکارڈ ایک ایسے شخص کے پاس ہے جس نے 163 کوششوں اور 17 سال بعد یہ ٹیسٹ پاس کیا تھا۔