LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت

وہ معمر شخص جس نے آئی سی یو میں زیر علاج بیوی کیلئے 105 دنوں تک روزانہ 12 گھنٹے سفر کیا

Web Desk

25 March 2026

زوشان/ننگبو: چین کے صوبے ژجیانگ (Zhejiang) سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ چِن اکونگ نے اپنی اہلیہ شوئی کے لیے ایسی محبت کی مثال قائم کی ہے جس نے انٹرنیٹ صارفین کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ چِن اکونگ گزشتہ 105 دنوں سے روزانہ 12 گھنٹے کا طویل سفر طے کر کے اسپتال پہنچتے رہے تاکہ آئی سی یو میں زیرِ علاج اپنی اہلیہ کے ساتھ صرف 30 منٹ گزار سکیں۔

چِن اور شوئی کی شادی کو 50 سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا۔ ایک سال قبل شوئی کو فالج اور پھر نمونیا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث انہیں ننگبو (Ningbo) کے ایک اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ اپنے بیٹے کی ملازمت کی مصروفیات کے باعث، چِن اکونگ نے خود اہلیہ کی نگہداشت کا بیڑہ اٹھایا۔ وہ روزانہ صبح ساڑھے 4 بجے بیدار ہو کر کھانا تیار کرتے اور دو بسیں بدل کر اسپتال پہنچتے، جہاں ملاقات کا وقت صرف صبح 10:30 سے 11 بجے تک تھا۔

اس آدھے گھنٹے کے دوران وہ اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھام کر پرانی یادیں تازہ کرتے اور ان کا خیال رکھتے۔ چِن نے اہلیہ کے علاج کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی (ایک لاکھ یوآن سے زائد) خرچ کر دی، یہاں تک کہ ان کے بیٹے نے بھی اپنی ماں کی زندگی بچانے کے لیے اپنا گھر فروخت کر دیا۔ ان کی اس لگن کو دیکھ کر بس ڈرائیورز نے ان سے کرایہ لینا بند کر دیا اور نیک دل شہریوں نے لاکھوں یوآن کے عطیات بھی دیئے۔

انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ 13 مارچ کو شوئی کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کے آخری لمحات میں بھی چِن اکونگ ان کا ہاتھ تھامے الوداع کہنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ غم زدہ چِن کا کہنا تھا کہ “میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، وہ دنیا کی سب سے اچھی بیوی تھی، اب میں اس کی قبر پر جا کر وقت گزارا کروں گا۔”