LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی

وہ معمر شخص جس نے آئی سی یو میں زیر علاج بیوی کیلئے 105 دنوں تک روزانہ 12 گھنٹے سفر کیا

Web Desk

25 March 2026

زوشان/ننگبو: چین کے صوبے ژجیانگ (Zhejiang) سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ چِن اکونگ نے اپنی اہلیہ شوئی کے لیے ایسی محبت کی مثال قائم کی ہے جس نے انٹرنیٹ صارفین کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ چِن اکونگ گزشتہ 105 دنوں سے روزانہ 12 گھنٹے کا طویل سفر طے کر کے اسپتال پہنچتے رہے تاکہ آئی سی یو میں زیرِ علاج اپنی اہلیہ کے ساتھ صرف 30 منٹ گزار سکیں۔

چِن اور شوئی کی شادی کو 50 سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا۔ ایک سال قبل شوئی کو فالج اور پھر نمونیا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث انہیں ننگبو (Ningbo) کے ایک اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ اپنے بیٹے کی ملازمت کی مصروفیات کے باعث، چِن اکونگ نے خود اہلیہ کی نگہداشت کا بیڑہ اٹھایا۔ وہ روزانہ صبح ساڑھے 4 بجے بیدار ہو کر کھانا تیار کرتے اور دو بسیں بدل کر اسپتال پہنچتے، جہاں ملاقات کا وقت صرف صبح 10:30 سے 11 بجے تک تھا۔

اس آدھے گھنٹے کے دوران وہ اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھام کر پرانی یادیں تازہ کرتے اور ان کا خیال رکھتے۔ چِن نے اہلیہ کے علاج کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی (ایک لاکھ یوآن سے زائد) خرچ کر دی، یہاں تک کہ ان کے بیٹے نے بھی اپنی ماں کی زندگی بچانے کے لیے اپنا گھر فروخت کر دیا۔ ان کی اس لگن کو دیکھ کر بس ڈرائیورز نے ان سے کرایہ لینا بند کر دیا اور نیک دل شہریوں نے لاکھوں یوآن کے عطیات بھی دیئے۔

انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ 13 مارچ کو شوئی کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کے آخری لمحات میں بھی چِن اکونگ ان کا ہاتھ تھامے الوداع کہنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ غم زدہ چِن کا کہنا تھا کہ “میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، وہ دنیا کی سب سے اچھی بیوی تھی، اب میں اس کی قبر پر جا کر وقت گزارا کروں گا۔”