LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

نیدرلینڈز: 1300 برس قدیم وائکنگز کی کشتی کا ٹکڑا دریافت

Web Desk

25 March 2026

ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز میں نکاسی کے معمول کے کام کے دوران مزدوروں نے اتفاقاً ایک ایسی دریافت کی ہے جس نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو حیران کر دیا ہے۔ کھدائی کے دوران زمین سے تقریباً 1300 برس قدیم وائکنگز (Vikings) کی کشتی کا ایک بڑا لکڑی کا ٹکڑا برآمد ہوا ہے۔ یہ دریافت اس وقت منظرِ عام پر آئی جب مزدوروں کی نظر مٹی سے باہر نکلے ہوئے ایک قدیم لکڑی کے پھٹے پر پڑی۔

اس غیر معمولی دریافت نے فوری طور پر امیچور ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈینی وین باسٹن کی توجہ حاصل کی، جس کے بعد ‘اسٹچنگ بیہیر وائکنگ شپ اینڈ میوزیم ڈوریسٹڈ’ کے ماہرین کو تفصیلی معائنے کے لیے طلب کیا گیا۔ جہاز سازی کے ماہر کِیس اسٹیرنبرگ نے لکڑی کے ٹکڑے کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ اس کی مخصوص شکل، تراشے ہوئے کنارے اور ماہرانہ ہنرکاری واضح کرتی ہے کہ یہ کسی قدیم کشتی کے فریم کا ‘بِیم’ (Beam) ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بِیم تقریباً 3.2 میٹر لمبا اور 30 سینٹی میٹر چوڑا ہے، تاہم قیاس کیا جا رہا ہے کہ زمین کے اندر اس کا مزید حصہ بھی موجود ہو سکتا ہے۔ اس دریافت سے خطے میں وائکنگز کی قدیم نقل و حرکت اور جہاز سازی کی مہارتوں کو سمجھنے میں نئی مدد ملے گی۔