LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

آدھا انسان آدھی مچھلی، جاپان سے پُر اسرار مخلوق کی باقیات دریافت

Web Desk

24 March 2026

فوکوشیما: جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک پرانے گھر کی صفائی کے دوران نصف مچھلی اور نصف انسان پر مشتمل ایک ہیبت ناک ڈھانچہ دریافت ہوا ہے جس نے ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس پُراسرار ڈھانچے میں ریزر کی طرح تیز دھار دانت، بڑے انسانی نما ہاتھ اور مچھلی کی دم واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جسے مقامی لوگ “قدیم بلا” قرار دے رہے ہیں۔

تاریخی اور دیومالائی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈھانچہ جاپانی لوک کہانیوں کے مشہور آبی کردار ’کَپّا‘ (Kappa) کا ایک نمائشی ماڈل ہو سکتا ہے۔ جاپانی اساطیر کے مطابق ’کپّا‘ تالابوں اور دریاؤں میں رہنے والی ایک ایسی مخلوق تھی جو انسانوں اور مویشیوں کو پانی میں کھینچ کر ڈبو دینے کی شہرت رکھتی تھی۔ ماضی میں بھی جاپان کے مختلف حصوں سے ایسی “ممیز” (Mummies) ملتی رہی ہیں جنہیں قدیم فنکار مذہبی رسومات یا نمائش کے لیے مختلف جانوروں کے اعضاء جوڑ کر تیار کرتے تھے۔

اگرچہ سائنسی طور پر اسے ایک مصنوعی شاہکار سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کی ہیبت ناک شکل اور قدیم بناوٹ نے فوکوشیما کے شہریوں میں جاپانی لیجنڈز کے حقیقت ہونے کے حوالے سے تجسس پیدا کر دیا ہے۔ اس ڈھانچے کو مزید تحقیق کے لیے مقامی عجائب گھر یا لیبارٹری منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔