LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

کینیڈا سے اسکاٹ لینڈ تک کا سمندری سفر: ساحلِ سمندر پر کتے کو بوتل میں بند 2 سال پرانا پیغام مل گیا

Web Desk

23 March 2026

ایبرڈین: اسکاٹ لینڈ کے شہر ایبرڈین میں ایک شہری کو سیر کے دوران سمندر کنارے ایک ایسی بوتل ملی ہے جس نے کینیڈا کے جزیرے ‘پرنس ایڈورڈ’ سے اسکاٹ لینڈ تک کا طویل سفر طے کیا۔ مائیک اسکاٹ نامی شہری اپنے کتوں کے ہمراہ ‘سینٹ سائرس’ کے ساحل پر چہل قدمی کر رہے تھے جب ان کے ایک کتے کی نظر اتھلے پانی میں تیرتی ایک بوتل پر پڑی۔

مائیک نے جب بوتل اٹھائی تو دیکھا کہ اس کے اندر ایک خط موجود ہے، جسے پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے پلاسٹک کی تھیلی میں مہارت سے سیل کیا گیا تھا۔ فرانسیسی زبان میں لکھا گیا یہ خط اگست 2024 کا ہے، جسے اینی چائیسن نامی خاتون نے تحریر کیا تھا۔ خط کے متن کے مطابق، اس بوتل کو پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ سے کیوبک میں ‘آئلس ڈی لا میڈیلن’ کے لیے سمندر برد کیا گیا تھا۔

خط لکھنے والی خاتون اینی چائیسن نے پیغام کے آخر میں یہ درخواست بھی کی تھی کہ جس کسی کو بھی یہ بوتل ملے، وہ فیس بک کے ذریعے ان سے رابطہ کرے۔ مائیک اسکاٹ کے مطابق یہ ایک حیرت انگیز تجربہ ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا سا پیغام ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ گیا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی کافی توجہ حاصل کر لی ہے اور لوگ اسے ‘سمندری معجزہ’ قرار دے رہے ہیں۔