LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

پیدائش کے فوری بعد بچھڑ جانے والی بچی 28 سال بعد والدین سے ملنے میں کامیاب

Web Desk

22 March 2026

نان چانگ، چین: انسانی جذبوں اور تقدیر کے کھیل کی ایک حیران کن مثال چین کے صوبہ جانگشی میں سامنے آئی ہے، جہاں 28 سالہ ہونگ یانگ لی تقریباً تین دہائیوں بعد اپنے ان والدین سے ملنے میں کامیاب ہو گئی ہیں جن سے انہیں پیدائش کے فوراً بعد جدا کر دیا گیا تھا۔

ہونگ یانگ لی کی پیدائش 1996 میں ہوئی تھی، لیکن ان کے دادا، جو پوتے کے خواہش مند تھے، نوزائیدہ بچی کو والدین سے یہ کہہ کر لے گئے کہ وہ اس کا خیال رکھیں گے، مگر خاموشی سے اسے دوسرے گاؤں کے ایک ٹوائلٹ میں چھوڑ آئے۔ بچی کی والدہ یانگ شیاؤننگ اس وقت شدید علیل تھیں اور والد ملازمت کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دادا نے یہ قدم اٹھایا اور مرتے دم تک اس راز کو سینے سے لگائے رکھا۔

خوش قسمتی سے ایک راہگیر نے ٹوائلٹ سے بچی کو برآمد کیا اور بعد ازاں ایک ڈچ (Dutch) خاندان نے اسے گود لے کر نیدرلینڈز منتقل کر دیا۔ نیدرلینڈز میں پرورش پانے والی ہونگ یانگ لی نے ہمیشہ اپنے اصل خاندان کی تلاش جاری رکھی اور دسمبر 2024 میں چین کے ‘گمشدہ بچوں کے ڈیٹا بیس’ میں اپنا ڈی این اے (DNA) نمونہ جمع کرایا۔

پولیس کی مدد سے والدین کی شناخت ہونے کے بعد، 14 مارچ کو ہونگ یانگ لی اپنے آبائی علاقے پہنچی جہاں آتش بازی اور پھولوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔ اگرچہ وہ چینی زبان نہیں بول سکتی تھیں، لیکن مترجم کے ذریعے والدین کی باتیں سن کر وہ اپنے آنسو نہ روک سکیں۔ اب ان کے حقیقی والدین نیدرلینڈز جا کر اس جوڑے کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کی بیٹی کی پرورش کی، جبکہ والد کا کہنا ہے کہ وہ بیٹی کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے کہ وہ کہاں رہنا چاہتی ہے۔