LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت

پیدائش کے فوری بعد بچھڑ جانے والی بچی 28 سال بعد والدین سے ملنے میں کامیاب

Web Desk

22 March 2026

نان چانگ، چین: انسانی جذبوں اور تقدیر کے کھیل کی ایک حیران کن مثال چین کے صوبہ جانگشی میں سامنے آئی ہے، جہاں 28 سالہ ہونگ یانگ لی تقریباً تین دہائیوں بعد اپنے ان والدین سے ملنے میں کامیاب ہو گئی ہیں جن سے انہیں پیدائش کے فوراً بعد جدا کر دیا گیا تھا۔

ہونگ یانگ لی کی پیدائش 1996 میں ہوئی تھی، لیکن ان کے دادا، جو پوتے کے خواہش مند تھے، نوزائیدہ بچی کو والدین سے یہ کہہ کر لے گئے کہ وہ اس کا خیال رکھیں گے، مگر خاموشی سے اسے دوسرے گاؤں کے ایک ٹوائلٹ میں چھوڑ آئے۔ بچی کی والدہ یانگ شیاؤننگ اس وقت شدید علیل تھیں اور والد ملازمت کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دادا نے یہ قدم اٹھایا اور مرتے دم تک اس راز کو سینے سے لگائے رکھا۔

خوش قسمتی سے ایک راہگیر نے ٹوائلٹ سے بچی کو برآمد کیا اور بعد ازاں ایک ڈچ (Dutch) خاندان نے اسے گود لے کر نیدرلینڈز منتقل کر دیا۔ نیدرلینڈز میں پرورش پانے والی ہونگ یانگ لی نے ہمیشہ اپنے اصل خاندان کی تلاش جاری رکھی اور دسمبر 2024 میں چین کے ‘گمشدہ بچوں کے ڈیٹا بیس’ میں اپنا ڈی این اے (DNA) نمونہ جمع کرایا۔

پولیس کی مدد سے والدین کی شناخت ہونے کے بعد، 14 مارچ کو ہونگ یانگ لی اپنے آبائی علاقے پہنچی جہاں آتش بازی اور پھولوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔ اگرچہ وہ چینی زبان نہیں بول سکتی تھیں، لیکن مترجم کے ذریعے والدین کی باتیں سن کر وہ اپنے آنسو نہ روک سکیں۔ اب ان کے حقیقی والدین نیدرلینڈز جا کر اس جوڑے کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کی بیٹی کی پرورش کی، جبکہ والد کا کہنا ہے کہ وہ بیٹی کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے کہ وہ کہاں رہنا چاہتی ہے۔