LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

تجربہ گاہ میں بنی کھانے کی نالی کی کامیاب پیوندکاری

Web Desk

22 March 2026

لندن: برطانیہ کے معروف گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ ہاسپٹل اور یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کے ماہرین نے پہلی بار تجربہ گاہ میں تیار کی گئی کھانے کی نالی کو کامیابی کے ساتھ ایک خنزیر میں پیوند کر دیا ہے۔ یہ مصنوعی نالی نہ صرف جسم کا حصہ بن گئی ہے بلکہ کھانا نگلنے کے لیے مکمل طور پر فعال بھی ہے۔

تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے ایک انوکھی تکنیک استعمال کی ہے جس میں عطیہ دینے والے جانور کے خلیات کو ختم کر کے، نالی حاصل کرنے والے جانور کے اپنے خلیات پیدا کیے گئے۔ اس طریقے سے ‘عضو کی مستردگی’ (Organ Rejection) کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے اور عضو قدرتی طور پر اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے سینئر محقق ڈاکٹر مارکو پیلیگرینی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان بچوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو کھانے کی نالی کی جان لیوا پیچیدگیوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے ذریعے بچوں کے اپنے خلیوں سے نئی کھانے کی نالی بنائی جا سکے گی، جو ‘پرسنلائزڈ ریجنریٹیو میڈیسن’ کے شعبے میں ایک سنگِ میل ہے۔ اس کامیابی سے اب انسانی آزمائشوں (Human Trials) کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جو مستقبل میں پیچیدہ سرجریوں کا متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔