LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر

ایران پر حملہ، نوبیاہتا جوڑے میں سے بیوی آسٹریلیا روانہ، شوہر دوحا میں رہ گیا

Web Desk

5 March 2026

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے ہزاروں مسافروں کو متاثر کیا، جن میں چین کا ایک نوبیاہتا جوڑا بھی شامل ہے جو ہنی مون کے دوران ایک دوسرے سے بچھڑ گیا۔

چین کے صوبہ ژجیانگ (Zhejiang) سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا 19 فروری کو مشرقِ وسطیٰ کی سیر کے لیے روانہ ہوا تھا تاکہ مختلف ممالک کی سیاحت کر سکے۔ ان کے سفر کا آخری پڑاؤ قطر تھا، جہاں سے انہیں آسٹریلیا کے شہر سڈنی جانا تھا کیونکہ شوہر یو وہاں ملازمت کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں کو ایک ہی تاریخ کی فلائٹ دستیاب نہ ہو سکی۔ یو کی اہلیہ زینگ کو 28 فروری کی صبح 9 بجے دوحا سے آسٹریلیا کے لیے پرواز مل گئی، جبکہ یو کی فلائٹ یکم مارچ کی صبح روانہ ہونا تھی۔

اسی دوران 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی اور دبئی اور دوحا کے ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔ اس صورتحال کے باعث اب تک 11 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ مسافر متاثر ہوئے ہیں۔

زینگ خوش قسمت ثابت ہوئی جو حملے سے قبل دوحا سے سڈنی روانہ ہو گئی، تاہم اس کا شوہر یو قطر میں ہی پھنس گیا۔ یو کے مطابق اگر وہ فوری فلائٹ لینے کی کوشش کرتا تو اسے تقریباً 5 ہزار ڈالر ادا کرنا پڑتے جو اس کے لیے ممکن نہیں تھا، اس لیے اس نے 13 مارچ کی مفت دستیاب پرواز کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔

یو اس وقت دوحا کے ایک ہوٹل میں مقیم ہے جہاں ہر رات کا کرایہ 90 ڈالر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے کئی میزائلوں کو آسمان میں پھٹتے دیکھا اور یہ اس کی زندگی کا پہلا موقع ہے جب اس نے کسی جنگ کو اتنی قریب سے دیکھا۔

یو نے بتایا کہ اس نے اپنی کمپنی کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ اس کی ملازمت متاثر نہ ہو۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کے لیے یوٹیوب ٹائٹل، ڈسکرپشن، ٹیگز اور تھمب نیل ٹیکسٹ بھی تیار کر سکتا ہوں۔