LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک افغانستان سرحدی صورتحال پر برطانوی مؤقف زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا: دفتر خارجہ پاکستان سفارتی سطح پر بھی معرکہ حق میں کامیاب، امن کا علمبردار بن کر ابھرا: عطا تارڑ ریڈ لائن بی آر ٹی کراچی کے مستقبل کی شہ رگ ہے؛ کام شروع ہونے کے بعد جلد واضح بہتری نظر آئے گی، شرجیل میمن سعودی عرب کا بڑا فیصلہ؛ 15 سال سے کم عمر بچوں کے حج پر پابندی عائد نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ؛ علاقائی امن اور معاشی استحکام پر تبادلۂ خیال ایران نے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے شرائط نرم کر دیں: امریکی اخبار بھارت میں سیاحوں کی کشتی الٹنے سے بچوں سمیت 9 افراد ہلاک، 4 لاپتا معرکۂ حق کی مناسبت سے مزارِ اقبال پر تقریب، مفکرِ پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش وزیراعظم کی نئے عراقی ہم منصب کو مبارکباد، تعلقات مضبوط بنانے کا عزم گوجرانوالہ کے لیے 31.5 کلومیٹر طویل ماس ٹرانزٹ سسٹم کی منظوری محکمہ موسمیات کی آج سےبالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی امریکا کی خلیج عمان میں ناکہ بندی، ایران کو تیل کی آمدن میں بھاری نقصان اڈیالہ جیل: بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست مسترد، وکلا کا جیل حکام پر قانون شکنی کا الزام رکاوٹوں کے باعث کام جاری رکھناممکن نہیں، گوادرمیں چینی کمپنی نے فیکٹری بند کردی،تمام ملازمین برطرف

سندھ کے ضلع سجاول میں 2026 کا پہلا پولیو کیس رپورٹ

Web Desk

5 March 2026

سندھ کے ضلع سجاول میں سال 2026 کا پہلا پولیو کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت اور انسداد پولیو حکام نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق سجاول کی بیلو یونین کونسل میں چار سالہ بچے میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کی تصدیق قومی ادارہ صحت اسلام آباد کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے کی ہے۔

پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور متاثرہ علاقے میں نگرانی اور ویکسینیشن کے اقدامات تیز کیے جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے جو بچوں میں عمر بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان میں 1990 کی دہائی میں پولیو کے کیسز تقریباً 20 ہزار سالانہ تھے، جو کم ہو کر 2025 میں صرف 31 کیسز رہ گئے۔

حکام کے مطابق رواں سال ملک گیر پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جا چکے ہیں، جبکہ اپریل میں ایک اور ملک گیر پولیو مہم شروع کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سندھ اور جنوبی خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع اب بھی پولیو کے حوالے سے ہائی رسک زون میں شامل ہیں، اس لیے والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ ہر مہم کے دوران اپنے بچوں کو لازمی پولیو کے قطرے پلائیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔