LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محکمہ موسمیات کی آج سےبالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی امریکا کی خلیج عمان میں ناکہ بندی، ایران کو تیل کی آمدن میں بھاری نقصان اڈیالہ جیل: بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست مسترد، وکلا کا جیل حکام پر قانون شکنی کا الزام رکاوٹوں کے باعث کام جاری رکھناممکن نہیں، گوادرمیں چینی کمپنی نے فیکٹری بند کردی،تمام ملازمین برطرف ایران کی نئی تجاویزسے مطمئن نہیں ایرانی قیادت کاآپس میں اتحادنہیں، امریکی صدر جنگ میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیاجائے، ایران کا عرب ممالک سے مطالبہ ایران سے جنگ جاری رہے گی یا نہیں؟ اب فیصلہ ٹرمپ کے بجائے کانگریس کرے گی امریکاکو جنگ میں 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے، ایرانی وزیرخارجہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری

امریکا کی خلیج عمان میں ناکہ بندی، ایران کو تیل کی آمدن میں بھاری نقصان

Web Desk

2 May 2026

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق 13 اپریل سے خلیجِ عمان میں شروع کی گئی امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کو اب تک تقریباً 4.8 ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے ایران کا تیل لے جانے والے 40 سے زائد بحری جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے، جبکہ 31 آئل ٹینکرز جن میں 5 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل موجود ہے، تاحال خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کو زمینی ذخیرہ گاہوں (Storage) کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ پرانے ٹینکرز کو عارضی اسٹوریج کے طور پر استعمال کرنے پر مجبور ہے، جبکہ امریکی کارروائی سے بچنے کے لیے ایرانی جہازوں کو چین تک پہنچنے کے لیے طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔