دنیا کا انوکھا گاؤں، جہاں مردوں کا داخلہ منع ہے
Web Desk
27 January 2026
افریقہ کے ملک کینیا میں واقع ’’اوموجا‘‘ ایک ایسا منفرد گاؤں ہے جہاں مردوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے اور ہر طرف صرف خواتین نظر آتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام دیہات لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ خواتین کے تحفظ اور خودمختاری کی علامت بن چکا ہے۔
یہ گاؤں تقریباً ساڑھے تین دہائیاں قبل سامبورو برادری کی خواتین نے قائم کیا، جن کا مقصد گھریلو تشدد، کم عمری کی شادی اور سماجی زیادتیوں سے بچاؤ کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنانا تھا۔
اوموجا کی رہائشی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں اپنے شوہروں یا خاندان کے مردوں کے ہاتھوں تشدد اور جبر کا شکار رہیں، لیکن اس گاؤں میں آ کر انہیں آزادی اور تحفظ کا احساس ملا۔
26 سالہ کرسٹین ستیان، جو چار بچوں کی ماں ہیں، کہتی ہیں کہ شوہر کے تشدد کے بعد ان کے پاس اوموجا منتقل ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ خود کو آزاد اور بااختیار محسوس کرتی ہیں۔
گاؤں کی بنیاد رکھنے والی ریبیکا لولوسولی اور دیگر خواتین نے مل کر ایک ایسی کمیونٹی تشکیل دی جہاں فیصلے صرف خواتین کرتی ہیں۔ آج اوموجا تقریباً 40 خاندانوں پر مشتمل ایک خود کفیل بستی ہے۔
یہاں خواتین روایتی موتیوں کے زیورات تیار کر کے فروخت کرتی ہیں اور سیاحوں کے لیے قائم کی گئی کیمپ سائٹ سے بھی آمدنی حاصل کرتی ہیں۔ اگرچہ مقامی مردوں کی جانب سے مویشی چوری جیسے مسائل درپیش رہتے ہیں، تاہم خواتین حوصلے اور اتحاد کے ساتھ ان مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
اوموجا میں رہنے والی خواتین نے دوبارہ شادی یا پرانے خاندانوں میں واپسی سے انکار کر دیا ہے اور اپنے بچوں کے مستقبل اور خودمختاری کو اولین ترجیح دینے کا عزم کر رکھا ہے۔
متعلقہ عنوانات
لڑکی نے 60 روز تک سو کر 28 لاکھ روپے سے زائد کمالیے
8 November 2026
شارجہ بک فیئر میں جرمن فنکار کا چلتا پھرتا درخت بچوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
7 November 2026
خاتون کاروباری شخصیت کا ملازماؤں کو مہنگے فولڈ ایبل آئی فونز کا تحفہ
7 November 2026
بھارت: 50 سالہ شخص دانت صاف کرتے ہوئے برش ہی نگل گیا
6 November 2026
اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹرمینل میں بندر گھس آیا: مسافروں میں حیرت
6 November 2026
10 سال سے زائد کی محنت، امریکی شہری نے دنیا کی سب سے بڑی ربڑ بینڈ بال بنا ڈالی
4 November 2026
90 سالہ جاپانی باڈی بلڈر کی فٹنس نے دنیا کو حیران کردیا
4 November 2026
مرغیاں کھا کھا کر باز موٹی، ماہرین نے ڈائٹ شروع کروا دی
4 November 2026