LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

دنیا کا انوکھا گاؤں، جہاں مردوں کا داخلہ منع ہے

Web Desk

27 January 2026

افریقہ کے ملک کینیا میں واقع ’’اوموجا‘‘ ایک ایسا منفرد گاؤں ہے جہاں مردوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے اور ہر طرف صرف خواتین نظر آتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام دیہات لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ خواتین کے تحفظ اور خودمختاری کی علامت بن چکا ہے۔

یہ گاؤں تقریباً ساڑھے تین دہائیاں قبل سامبورو برادری کی خواتین نے قائم کیا، جن کا مقصد گھریلو تشدد، کم عمری کی شادی اور سماجی زیادتیوں سے بچاؤ کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنانا تھا۔

اوموجا کی رہائشی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں اپنے شوہروں یا خاندان کے مردوں کے ہاتھوں تشدد اور جبر کا شکار رہیں، لیکن اس گاؤں میں آ کر انہیں آزادی اور تحفظ کا احساس ملا۔

26 سالہ کرسٹین ستیان، جو چار بچوں کی ماں ہیں، کہتی ہیں کہ شوہر کے تشدد کے بعد ان کے پاس اوموجا منتقل ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ خود کو آزاد اور بااختیار محسوس کرتی ہیں۔

گاؤں کی بنیاد رکھنے والی ریبیکا لولوسولی اور دیگر خواتین نے مل کر ایک ایسی کمیونٹی تشکیل دی جہاں فیصلے صرف خواتین کرتی ہیں۔ آج اوموجا تقریباً 40 خاندانوں پر مشتمل ایک خود کفیل بستی ہے۔

یہاں خواتین روایتی موتیوں کے زیورات تیار کر کے فروخت کرتی ہیں اور سیاحوں کے لیے قائم کی گئی کیمپ سائٹ سے بھی آمدنی حاصل کرتی ہیں۔ اگرچہ مقامی مردوں کی جانب سے مویشی چوری جیسے مسائل درپیش رہتے ہیں، تاہم خواتین حوصلے اور اتحاد کے ساتھ ان مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

اوموجا میں رہنے والی خواتین نے دوبارہ شادی یا پرانے خاندانوں میں واپسی سے انکار کر دیا ہے اور اپنے بچوں کے مستقبل اور خودمختاری کو اولین ترجیح دینے کا عزم کر رکھا ہے۔