LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

دنیا کا انوکھا گاؤں، جہاں مردوں کا داخلہ منع ہے

Web Desk

27 January 2026

افریقہ کے ملک کینیا میں واقع ’’اوموجا‘‘ ایک ایسا منفرد گاؤں ہے جہاں مردوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے اور ہر طرف صرف خواتین نظر آتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام دیہات لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ خواتین کے تحفظ اور خودمختاری کی علامت بن چکا ہے۔

یہ گاؤں تقریباً ساڑھے تین دہائیاں قبل سامبورو برادری کی خواتین نے قائم کیا، جن کا مقصد گھریلو تشدد، کم عمری کی شادی اور سماجی زیادتیوں سے بچاؤ کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنانا تھا۔

اوموجا کی رہائشی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ماضی میں اپنے شوہروں یا خاندان کے مردوں کے ہاتھوں تشدد اور جبر کا شکار رہیں، لیکن اس گاؤں میں آ کر انہیں آزادی اور تحفظ کا احساس ملا۔

26 سالہ کرسٹین ستیان، جو چار بچوں کی ماں ہیں، کہتی ہیں کہ شوہر کے تشدد کے بعد ان کے پاس اوموجا منتقل ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ خود کو آزاد اور بااختیار محسوس کرتی ہیں۔

گاؤں کی بنیاد رکھنے والی ریبیکا لولوسولی اور دیگر خواتین نے مل کر ایک ایسی کمیونٹی تشکیل دی جہاں فیصلے صرف خواتین کرتی ہیں۔ آج اوموجا تقریباً 40 خاندانوں پر مشتمل ایک خود کفیل بستی ہے۔

یہاں خواتین روایتی موتیوں کے زیورات تیار کر کے فروخت کرتی ہیں اور سیاحوں کے لیے قائم کی گئی کیمپ سائٹ سے بھی آمدنی حاصل کرتی ہیں۔ اگرچہ مقامی مردوں کی جانب سے مویشی چوری جیسے مسائل درپیش رہتے ہیں، تاہم خواتین حوصلے اور اتحاد کے ساتھ ان مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

اوموجا میں رہنے والی خواتین نے دوبارہ شادی یا پرانے خاندانوں میں واپسی سے انکار کر دیا ہے اور اپنے بچوں کے مستقبل اور خودمختاری کو اولین ترجیح دینے کا عزم کر رکھا ہے۔