LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینے کے حیرت انگیز اور خطرناک نقصانات

Web Desk

20 January 2026

کونکورڈیا یونیورسٹی کی نئی تحقیق اور 140 سے زائد بین الاقوامی مطالعات کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی انسانی صحت کیلئے ایک خاموش خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق بوتل بند پانی کے ہر لیٹر میں 2 سے 6,626 تک مائیکروپلاسٹک ذرات پائے جا سکتے ہیں، جبکہ نینو پلاسٹک کی مقدار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد روزانہ اپنی پانی کی ضرورت صرف سنگل یوز پلاسٹک بوتلوں سے پوری کرتے ہیں، وہ سالانہ تقریباً 90,000 اضافی مائیکروپلاسٹک ذرات جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں صرف نل کا پانی استعمال کرنے والے افراد سالانہ تقریباً 4,000 مائیکروپلاسٹک ذرات جذب کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بوتل کا ڈھکن اور گلا روشنی، حرارت اور بار بار کھلنے بند ہونے کے باعث مائیکروپلاسٹک خارج کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ذرات مدافعتی نظام، ہارمونز اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں سے جُڑے ہو سکتے ہیں۔