LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینے کے حیرت انگیز اور خطرناک نقصانات

Web Desk

20 January 2026

کونکورڈیا یونیورسٹی کی نئی تحقیق اور 140 سے زائد بین الاقوامی مطالعات کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی انسانی صحت کیلئے ایک خاموش خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق بوتل بند پانی کے ہر لیٹر میں 2 سے 6,626 تک مائیکروپلاسٹک ذرات پائے جا سکتے ہیں، جبکہ نینو پلاسٹک کی مقدار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد روزانہ اپنی پانی کی ضرورت صرف سنگل یوز پلاسٹک بوتلوں سے پوری کرتے ہیں، وہ سالانہ تقریباً 90,000 اضافی مائیکروپلاسٹک ذرات جسم میں جذب کر لیتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں صرف نل کا پانی استعمال کرنے والے افراد سالانہ تقریباً 4,000 مائیکروپلاسٹک ذرات جذب کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بوتل کا ڈھکن اور گلا روشنی، حرارت اور بار بار کھلنے بند ہونے کے باعث مائیکروپلاسٹک خارج کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ذرات مدافعتی نظام، ہارمونز اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں سے جُڑے ہو سکتے ہیں۔