LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پاسکو اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش: وزیرِ خزانہ کی شفافیت اور عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا

دہائیوں تک راستے سے گزرنے کیلئے استعمال ہونیوالے پتھر 19 کروڑ سال پرانے ڈائنا سور فوسلز ثابت

Web Desk

6 December 2025

چین میں 2 بھائی یہ دریافت کرکے دنگ رہ گئے کہ وہ دہائیوں سے جن چٹانوں کو راستے سے گزرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے، وہ درحقیقت 19 کروڑ سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات پر مبنی فوسلز ہیں۔

چینی سائنسدانوں کی ایک تحقیق میں اس کا انکشاف کیا گیا۔ان چٹانوں کو صوبہ سیچوان کے گاؤں Wuli میں کچھ سال قبل دریافت کیا گیا تھا۔اس کے بعد انکشاف ہوا کہ ان چٹانوں کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی چھپی ہوئی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق ڈینگ برادرز نامی بھائیوں نے 1998 میں ان چٹانوں پر مرغی کے پنجوں جیسے نشانات دیکھے اور پھر انہیں راستے سے گزرنے کے لیے استعمال کرنے لگے۔اس گاؤں اور ملحقہ علاقوں کو چینی ڈائنا سورز کا گھر قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں سے کافی فوسلز مل چکے ہیں۔ان بھائیوں نے چٹانوں کو لگ بھگ 2 دہائیوں تک استعمال کیا۔207 میں جب مقامی سطح میں ڈائنا سورز کے حوالے سے دلچسپی بڑھی تو ایک بھائی کی بیٹی نے ان چٹانوں کی تصاویر آن لائن پوسٹ کیں تاکہ ان پر موجود نشانات کے بارے میں تفصیلات حاصل کرسکے۔ان تصاویر میں پنجوں کے نشانات موجود تھے اور انہوں نے مقامی ڈائنا سور میوزیم کی توجہ حاصل کرلی۔ایک ماہ بعد محققین نے تصدیق کی کہ ان چٹانوں پر کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات موجود ہیں۔ڈینگ خاندان کی اجازت کے بعد ان چٹانوں کو تجزیے کے لیے میوزیم میں منتقل کیا گیا۔حال ہی میں سائنسدانوں نے ان چٹانوں پر کیے جانے والے تجزیے کے نتائج جرنل آف Palaeogeography میں شائع کیے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 8 چٹانوں میں 413 قدموں کے نشانات تھے جو کہ 18 سے 19 کروڑ سال پرانے ہیں۔محققین کے مطابق زیادہ تر نشانات Eubrontes اور Grallators ڈائنا سورز کے ہیں