LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان

روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی

Web Desk

7 September 2026

کیف: یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ موسمِ سرما تک طول پکڑ سکتی ہے۔ انہوں نے امریکی اور یورپی اتحادیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں یوکرین کے ساتھ اپنا تعاون اور فوجی امداد جاری رکھیں۔

یوکرینی صدر نے تاکید کی کہ تمام اہم اور پیچیدہ علاقائی معاملات کا حتمی فیصلہ صرف سربراہانِ مملکت کی اعلیٰ سطح ملاقات میں ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی کوششوں اور بات چیت کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، جبکہ وٹکوف اور کشنر کی سفارتی موجودگی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

صدر زیلنسکی نے انکشاف کیا کہ امریکی وفد کے دورہٴ خطہ کے دوران روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے تین روزہ عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے جواب میں یوکرین نے بھی پاسداری کرتے ہوئے اس دوران ماسکو پر کسی بھی قسم کے ڈرون یا میزائل حملے نہ کرنے کا باقاعدہ وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی وفد نے پہلے ماسکو میں روسی صدر سے تفصیلی ملاقات کی اور اس کے بعد کیف کا دورہ کیا۔ اگرچہ زیلنسکی، پیوٹن اور امریکی حکام تمام فریقین نے ان مذاکرات کو مثبت اور خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم اس سفارتی تحرک کے باوجود فی الحال جنگ بندی یا امن کے حوالے سے کوئی بڑی اور حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔