LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا بروڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے نامور کوہ پیما نرمل پرجا لاپتا ہونے کا خدشہ ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو پاکستان کے 2 مزید کرکٹرز کا لنکا پریمئیر لیگ میں معاہدہ، شاہین شاہ آفریدی دستبردار پی این فلیٹ کلب سکواش: عاصم، نور، حمزہ اور ناصر کوارٹر فائنل میں بابر اعظم کی باکسر فاطمہ زہرا کو کانسی کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے کئی ارکان شہید کرنے کا دعویٰ ٹرمپ کا ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ مؤخر کرنے کا اعلان اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کا الخلیل کے قریب فلسطینیوں پر ایک اور حملہ غزہ سے انخلا پر اسرائیل میں سیاسی اختلافات، نیتن یاہو دباؤ کا شکار دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری، مزید 7 فلسطینی شہید سعودی ولی عہد کا ایران پر ممکنہ بڑے حملوں کے امریکی منصوبے پر اظہار تشویش عراقی ملیشیا گروپوں کی اردن پر حملے کی منصوبہ بندی، اردن کی جوابی کارروائی کی وارننگ

دنیا کی سب سے تیز ترین لفٹ کہاں ہے؟

Web Desk

9 April 2026

بلند و بالا عمارتوں میں اکثر لوگ وقت کی بچت اور تھکاوٹ سے بچنے کے لیے سیڑھیوں کے بجائے لفٹ کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی تیز ترین لفٹ کہاں واقع ہے؟ یہ شاہکار چین کے شہر گوانگزو کے ‘سی ٹی ایف فائنانس سینٹر’ (CTF Finance Centre) میں نصب ہے، جس نے اپنی غیر معمولی رفتار کی بدولت گینیز ورلڈ ریکارڈ بھی اپنے نام کر رکھا ہے۔ مشہورِ زمانہ ‘ہیٹاچی’ (Hitachi) کمپنی کی تیار کردہ یہ لفٹ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز نمونہ ہے۔

اس لفٹ کی رفتار کے اعداد و شمار دنگ کر دینے والے ہیں۔ یہ تقریباً 1,260 میٹر فی منٹ (یعنی 75.6 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے حرکت کرتی ہے، جو کہ ایک عام شہری سڑک پر چلنے والی کار کی رفتار کے برابر ہے۔ یہ لفٹ 440 میٹر کی بلندی تک محض چند سیکنڈز میں پہنچ جاتی ہے، جو اسے عام عمارتوں میں لگی لفٹوں سے کئی گنا تیز بناتا ہے۔ اتنی تیز رفتاری کے باوجود اس میں مسافروں کے آرام اور توازن کا خاص خیال رکھا گیا ہے تاکہ بلندی پر جاتے ہوئے جھٹکوں یا دباؤ کا احساس نہ ہو۔