LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ آرمینیا کی ایران کی سلامتی کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے کی یقین دہانی پاکستان اور ورلڈ بینک کا سرمایہ کاری، روزگار کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق اشرافیہ نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے: حافظ نعیم الرحمان امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران جیٹ فیول میانمار پہنچانے میں کامیاب افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کے پانچ سال مکمل گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں: محسن نقوی وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں سے ملاقاتیں، برآمدات میں اضافے پر زور پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری و سلامتی کیلئے شانہ بشانہ کھڑا ہے: وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ماحولیاتی نسل کشی کے مترادف ہیں: ایرانی صدر گورنر فیصل کریم کنڈی کا خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان حوثی ملیشیا کے ایئرپورٹ حملوں پر سعودی التحالف کا بڑا ایکشن: 127 ذخیرہ گاہیں تباہ، حوثی صلاحیتیں ختم کرنے کا اعلان برین ڈرین کا بحران: گزشتہ 3 سالوں میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک منتقل خیبرپختونخوا میں گورنر راج غیر آئینی ہے، پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے: محمود خان اچکزئی Slug: افغان طلبہ کا میڈیکل کالجوں سے اخراج کا معاملہ: لاہور ہائیکورٹ کی حکمِ امتناعی میں توسیع

ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر توہین برداشت نہیں کریں گے،ایران کا امریکا کو پیغام

Web Desk

8 November 2025

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا اور امن کو ترجیح دیتا ہے، تاہم بین الاقوامی توہین اور دفاع کے حق سے محروم کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صدر پزشکیان نے گزشتہ دنوں تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کو یہ واضح پیغام دیا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ اگر کوئی منطقی اور سنجیدہ بات کرے تو ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن یہ کہنا کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق نہیں ہے یا دھمکی آمیز الفاظ مثلاً “زیادہ بات کرو گے تو ہم بم ماریں گے” جیسی زبان قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی زندگی ایران گزارنا نہیں چاہتا۔
صدر نے مزید تنقید کی کہ امریکہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے جبکہ ایران کو اپنے دفاع کے جواز سے محروم رکھنے کی کوششیں قابلِ قبول نہیں۔ ان کے بقول یہ ڈبل اسٹینڈرڈ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایران اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کروائے گا۔
تہران میں دیے گئے اس پیغام میں صدر پزشکیان نے امن کے لیے کھلے دروازے برقرار رکھنے اور مذاکرات کی آمادگی پر زور دیا مگر ساتھ ہی ملک کی سکیورٹی اور قومی وقار کے دفاع کا عزم دہرایا۔ مبصرین کے مطابق یہ کڑا بیان علاقائی کشیدگی اور تہران کی بین الاقوامی سفارتی پوزیشن کو واضح کرنے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔