LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خارگ پر حملہ، متحدہ عرب امارات میں امریکی ٹھکانے اب جائز اہداف ہیں: پاسداران انقلاب پاکستان اور امتِ مسلمہ کو سنجیدگی سے اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان پٹرولیم کفایت شعاری سے حاصل رقم عوامی فلاح کیلئے استعمال ہوگی: وزیراعظم کسٹمز نے سرکاری گاڑی کو نان کسٹم پیڈ کا دعویٰ کرکے ضبط کرلیا: شرجیل میمن پاکستان سے مشرق وسطیٰ کی مزید 25 پروازیں منسوخ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا امریکا کا ایران کے سکول پر حملہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے: ڈائریکٹر ہیومن رائٹس واچ ورلڈکپ سے امیدیں پوری نہیں ہوئیں، کوچ اور کپتان مل کر کھلاڑی چنتے ہیں: عاقب جاوید مشرقِ وسطیٰ تنازع، تیل کی قیمت پھر سے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی خود کو اسرائیل کیخلاف ’طویل جنگ‘ کیلئے تیار کر لیا ہے، حزب اللہ رہنما نعیم قاسم امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ایرانیوں کی تعداد 1348 ہوگئی، 17 ہزار سے زائد زخمی ٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی امریکی فوج کے ایران پر شدید حملے، خارک جزیرہ اور فوجی اہداف تباہ کردیا: صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا مزید جنگی جہاز اور 5 ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان افغان طالبان کے بھیجے گئے ڈرون تباہ، ملبہ گرنے سے کوئٹہ اور راولپنڈی میں شہری زخمی، آئی ایس پی آر

امریکہ کا افریقہ میں طبّی ڈرون سروس کے لیے زِپلائن کو 150 ملین ڈالر دینے کا معاہدہ

Web Desk

25 November 2025

امریکی محکمۂ خارجہ نے زِپلائن انٹرنیشنل کے ساتھ ایک اہم معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کمپنی کو 150 ملین ڈالر تک کی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس تعاون کا مقصد افریقی ممالک آئیوری کوسٹ، گھانا، کینیا، نائجیریا اور روانڈا میں دور دراز علاقوں تک جان بچانے والی طبّی اشیاء، بشمول خون اور ادویات، کی فوری فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے زِپلائن کا امریکی ساختہ جدید روبوٹکس سسٹم تقریباً 15 ہزار صحت مراکز تک رسائی حاصل کرے گا، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں روایتی سپلائی چین سست اور ناقابلِ بھروسہ ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ امریکی اور افریقی ماہرین اور پالیسی سازوں کے ساتھ مل کر جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہی ہے، جو صحت کے شعبے میں بہتری اور وبائی امراض سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہیں۔ یہ شراکت نہ صرف امریکہ میں بلکہ افریقہ میں بھی نئے روزگار کے مواقع پیدا کر کے معاشی خوشحالی کو بڑھاتی ہے اور امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ذریعے عالمی تحفظ کو مضبوط کرتی ہے۔

اس پیش رفت سے امریکی سفارت کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، جس میں نجی و سرکاری شراکت داری کے تحت مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار لاجسٹکس کو عالمی صحت کے اہداف اور اقتصادی ترقی سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی سنگِ میل ادائیگیوں اور شراکت دار حکومتوں کی مشترکہ مالی معاونت پر مبنی ہے، تاکہ منصوبوں کی پائیداری یقینی ہو اور افریقہ میں صحت کے مضبوط اور دیرپا نظام تشکیل دیے جا سکیں جو کہ ’’امریکہ فرسٹ گلوبل ہیلتھ اسٹریٹجی‘‘ کے مطابق ہے۔

محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ امریکی ٹیکنالوجی، سائنس اور طب کی بے مثال جدت کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے، اور یہ معاہدہ افریقہ میں وہ متبادل بھی فراہم کرے گا جو قرضوں پر مبنی انفراسٹرکچر پر انحصار کم کرے گا۔