LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا

امریکہ کا افریقہ میں طبّی ڈرون سروس کے لیے زِپلائن کو 150 ملین ڈالر دینے کا معاہدہ

Web Desk

25 November 2025

امریکی محکمۂ خارجہ نے زِپلائن انٹرنیشنل کے ساتھ ایک اہم معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کمپنی کو 150 ملین ڈالر تک کی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس تعاون کا مقصد افریقی ممالک آئیوری کوسٹ، گھانا، کینیا، نائجیریا اور روانڈا میں دور دراز علاقوں تک جان بچانے والی طبّی اشیاء، بشمول خون اور ادویات، کی فوری فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے زِپلائن کا امریکی ساختہ جدید روبوٹکس سسٹم تقریباً 15 ہزار صحت مراکز تک رسائی حاصل کرے گا، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں روایتی سپلائی چین سست اور ناقابلِ بھروسہ ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ امریکی اور افریقی ماہرین اور پالیسی سازوں کے ساتھ مل کر جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہی ہے، جو صحت کے شعبے میں بہتری اور وبائی امراض سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہیں۔ یہ شراکت نہ صرف امریکہ میں بلکہ افریقہ میں بھی نئے روزگار کے مواقع پیدا کر کے معاشی خوشحالی کو بڑھاتی ہے اور امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ذریعے عالمی تحفظ کو مضبوط کرتی ہے۔

اس پیش رفت سے امریکی سفارت کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، جس میں نجی و سرکاری شراکت داری کے تحت مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار لاجسٹکس کو عالمی صحت کے اہداف اور اقتصادی ترقی سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی سنگِ میل ادائیگیوں اور شراکت دار حکومتوں کی مشترکہ مالی معاونت پر مبنی ہے، تاکہ منصوبوں کی پائیداری یقینی ہو اور افریقہ میں صحت کے مضبوط اور دیرپا نظام تشکیل دیے جا سکیں جو کہ ’’امریکہ فرسٹ گلوبل ہیلتھ اسٹریٹجی‘‘ کے مطابق ہے۔

محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ امریکی ٹیکنالوجی، سائنس اور طب کی بے مثال جدت کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے، اور یہ معاہدہ افریقہ میں وہ متبادل بھی فراہم کرے گا جو قرضوں پر مبنی انفراسٹرکچر پر انحصار کم کرے گا۔