یورپ کی روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کے امریکی فیصلے کی مخالفت
Web Desk
14 March 2026
روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کے امریکی فیصلے نے مغربی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کی خلیج واضح کر دی ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے کے تحت دیگر ممالک کو وہ روسی تیل خریدنے کی اجازت ہو گی جو پہلے ہی سمندر میں جہازوں پر لدا ہوا ہے لیکن پابندیوں کی وجہ سے فروخت نہیں ہو سکا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے، تاہم یورپی رہنما اسے یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک خطرناک قدم قرار دے رہے ہیں۔
یورپی اور عالمی رہنماؤں کے اہم ردعمل درج ذیل ہیں:
-
انتونیو کوسٹا (صدر یورپی کونسل): انہوں نے اس فیصلے کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یورپ کی سلامتی داؤ پر لگ جائے گی اور روس کو یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے مزید وسائل ملیں گے۔
-
ولادیمیر زیلنسکی (صدر یوکرین): یوکرینی صدر نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے روس کو 10 ارب ڈالر کا براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے، جو خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
-
ایمانوئل میکخواں (صدر فرانس): فرانسیسی صدر نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ممکنہ بندش کی بنیاد پر روس سے پابندیاں ہٹانے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔
-
مارک کارنی (وزیراعظم کینیڈا): انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا کے نزدیک روس پر پابندیاں برقرار رہنی چاہئیں تاکہ اس کی جنگی معیشت پر دباؤ برقرار رہے۔
متعلقہ عنوانات
عمران خان اور جمائمہ کا برطانوی گھر برائے فروخت
11 July 2026
امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے
11 July 2026
پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور سپاٹ کارگو حاصل کر لیا
11 July 2026
اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا
11 July 2026
بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک ہے‘، نئی دہلی میں افغان وزیرِ زراعت عطاء اللہ عمری کا متنازع بیان
11 July 2026
امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر تنقید، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ
11 July 2026
ایران نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی، امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے: عراقچی
11 July 2026
ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
11 July 2026