یورپ کی روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کے امریکی فیصلے کی مخالفت
Web Desk
14 March 2026
روسی تیل کی خریداری پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کے امریکی فیصلے نے مغربی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کی خلیج واضح کر دی ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے کے تحت دیگر ممالک کو وہ روسی تیل خریدنے کی اجازت ہو گی جو پہلے ہی سمندر میں جہازوں پر لدا ہوا ہے لیکن پابندیوں کی وجہ سے فروخت نہیں ہو سکا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے، تاہم یورپی رہنما اسے یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک خطرناک قدم قرار دے رہے ہیں۔
یورپی اور عالمی رہنماؤں کے اہم ردعمل درج ذیل ہیں:
-
انتونیو کوسٹا (صدر یورپی کونسل): انہوں نے اس فیصلے کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یورپ کی سلامتی داؤ پر لگ جائے گی اور روس کو یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے مزید وسائل ملیں گے۔
-
ولادیمیر زیلنسکی (صدر یوکرین): یوکرینی صدر نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے روس کو 10 ارب ڈالر کا براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے، جو خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
-
ایمانوئل میکخواں (صدر فرانس): فرانسیسی صدر نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ممکنہ بندش کی بنیاد پر روس سے پابندیاں ہٹانے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔
-
مارک کارنی (وزیراعظم کینیڈا): انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا کے نزدیک روس پر پابندیاں برقرار رہنی چاہئیں تاکہ اس کی جنگی معیشت پر دباؤ برقرار رہے۔
متعلقہ عنوانات
اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا
28 October 2026
امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط
28 October 2026
اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات
28 October 2026
پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار
28 October 2026
ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو
28 October 2026
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور
28 October 2026
سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
28 October 2026
مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی
28 October 2026